کےپی اسمبلی: ضم اضلاع کے اراکین کا فرش پربیٹھ کراحتجاج

اراکین اسمبلی کا انضمام کے وقت کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا مطالبہ
May 31, 2021

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں صوبے میں ضم اضلاع کے اراکین اسمبلی مسلسل اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کررہے ہیں۔ اراکین احتجاجاً اپنی نشستوں کے بجائے اسپیکر ڈائس کے سامنے فرش پر بیٹھ کر اسمبلی کی کارروائی میں شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کررہے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں اضلاع کے اراکین کے مطابق 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت قبائلی عوام کیساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہورہا اور انضمام کے 3 سالوں میں صوبائی فنانس کمیشن میں ہمیں حصہ نہیں دیا گیا۔ احتجاجی اراکین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ محمود خان کیساتھ ملاقات اور مسائل کے حل تک احتجاج جاری رہے گا۔

اراکین نے مزید کہا کہ اسمبلی کی معمول کی کارروائی ہو یا بجٹ اجلاس  وزیراعلیٰ کی یقین دہانی تک اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ کور کمانڈر کانفرس میں بھی نئے ضم شدہ اضلاع میں جاری ترقیاتی کاموں سے متعلق غور کیا گیا تھا، کور کمانڈر کانفرنس اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ فورم نے فاٹا کے ضم اضلاع اور بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور ان علاقوں کی معاشی و سماجی ترقی پر زور دیا تاکہ مشکل سے حاصل کئے گئے امن و امان سے فائدہ اٹھایا جائے اور علاقے میں دیرپا استحکام قائم رہے۔

ضلع مہمند سے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی نثار مہمند نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے انضمام کے 3 سال بعد بھی پورے نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 25 ویں آئینی ترمیم میں ضم اضلاع کو این ایف سی ایوارڈ کا 3 فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر اس پر بھی تاحال عملدرآمد نہ ہوسکا۔

نثار مہمند کا خیال ہے کہ عوام کو انضمام کے وقت جو خواب دکھائے گئے تھے اس پر ایک فیصد بھی عمل نہ ہوسکا اور علاقے کے عوام بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک میرے حلقے میں ایک اینٹ تک نہیں لگائی گئی اور  جس فنڈ کا حکومتی وزیر دعویٰ کررہے ہیں وہ نان ڈیولپمنٹ فنڈ ہے۔

نثار محمد نے خدشہ ظاہر کیا کہ آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزلوشن کے ذریعے ہم پر پرانا ایف سی آر نئی شکل میں لاگو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ضم اضلاع میں ابھی تک پولیس اصلاحات پر بھی کام نہیں ہوا اور پولیس کی شکل میں خاصہ دار فورس کو ہمارے سر پر بٹھادیا گیا ہے۔

نثار مہمند کا کہنا تھا کہ ہمارے احتجاج میں جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام اور آزاد رکن اسمبلی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کو وعدے یاد دلاتے رہیں گے اور وعدوں کی تکمیل تک اسمبلی کے اندر احتجاج جاری رکھیں گے۔

صوبائی حکومت کا مؤقف

صوبائی وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کا کہنا ہے کہ ضم اضلاع میں ترقیاتی کاموں میں سست روی کی ذمہ دار صرف تحریک انصاف حکومت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انضمام سے پہلے فاٹا کی ترقی کیلئے پاکستان کے دیگر صوبوں نے بھی وعدے کئے تھے جو پورے نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ان علاقوں میں کئی ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز صوبے کے بجٹ سے فراہم کئے۔

فاٹا کیلئے 5 کروڑ کا بجٹ انضمام کے بعد 100 ارب تک پہنچایا، اس کے علاوہ 50 ارب روپے ہم نے قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے مختص کئے ہیں۔

پچیسویں آئینی ترمیم

پچیسویں آئینی ترمیم 2018ء میں قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی، جس کی رو سے ملک کے سابقہ قبائلی علاقہ جات پاکستان میں آئینی طور پر شامل ہوئے، اس ترمیم کے بعد یہ علاقے باضابطہ طور پر خیبرپختونخوا کا حصہ ہے۔

خیبرپختونخوا کا حصہ بننے والے فاٹا کے علاقوں میں ضلع مہمند، باجوڑ، کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اور ضلع اورکزئی کے علاوہ ایف آر پشاور، ایف آر بنوں، ایف آر کوہاٹ، ایف آر لکی مروت، ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان اور ایف آر ٹانک شامل ہیں۔

بل کی منظوری کے وقت تمام سیاسی جماعتوں نے نئے ضم شدہ اضلاع کو ترقیاتی کاموں کی مد میں این ایف سی کا 3 فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیا تھا جس پر تاحال عملدرآمد نہ ہوسکا۔

 صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کا مؤقف ہے کہ باقی 3 صوبے معاملے پر متفق ہیں مگر سندھ حکومت اس میں رکاوٹ ہے تاہم سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ذمہ داری وفاق کی ہے اور وفاق اپنے شیئرز سے ضم اضلاع کیلئے ترقیاتی فنڈ میں اضافہ کرے۔

KHYBERPAKHTUNKHWA

Tabool ads will show in this div