چین کے نابینا کوہ پیما نے ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرلیا

خودکو کبھی کسی سے کم تر نہ سمجھیں،کوہ پیما
بشکریہ ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ
بشکریہ ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ

بشکریہ ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ

چین سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما زہینگ ہونگ نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کو سر کرلیا ہے۔

ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق 46 سالہ چینی کوہ پیما ن نیپال کے راستے ماؤنٹ ایوریسٹ کو سر کیا، جس کے بعد وہ ایشیا کے پہلے اور دنیا کے تیسرے نابینا کوہ پیما ہیں جنہوں نے اس بلند ترین چوٹی کو سر کیا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روائٹرز سے گفتگو میں زہینگ ہونگ کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی آنکھیں ہیں یا نہیں، آپ کے ہاتھ یا پاؤں ہیں یا نہیں، آگر اپ میں جذبہ ہے اور آپ خود کو اندر سے مضبوط سمجھتے ہیں تو آپ دنیا میں کسی بھی طرح دوسروں سے کم نہیں ہیں۔

چین سے تعلق رکھنے والے 46 سالہ زہینگ ہونگ جنوب مغربی چینی شہر چونگ کیونگ میں پیدا ہوئے۔ جب وہ 21 سال کے تھے تو ان کی بینائی گلیو کوما بیماری کے باعث چل گئی تھی۔ تاہم زہینگ نے ہمت نہ ہاری نہ دل چھوٹا کیا اور امریکا کے معروف نابینا کوہ پیما ایرک وین میئر کو اپنا آئیڈیل تصور کرتے ہوئے ان کی طرح بلند چوٹیاں سر کرنے کی ٹھانی، جنہوں نے سال 2001 میں اس بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کو سر کیا تھا۔

اس سفر کیلئے انہوں نے اپنے ماؤنٹ گائیڈ دوست کی اینگ زی سے تربیت حاصل کرنا شروع کی۔

زہینگ ہونگ نے نیپال کی طرف سے دنیا کی بلند ترین چوٹی سرکی، وہ 24 مئی کو 8849 میٹر بلند ماونٹ ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچے اور27 مئی کو بیس کیمپ پر ان کی واپسی ہوئی۔

واضح رہے کہ معروف پاکستانی کوہ پیما علی سد پارا آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے ایم پی مہر سمیت ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرنے کے دوران رواں سال فروری میں لاپتا ہوگئے تھے، جس کے بعد پاک فوج کی مدد سے تینوں کوہ پیماؤں کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کیا گیا، تاہم کئی روز کی تلاش کے بعد بھی ان کا پتا نہ چل سکا۔ جس کے بعد ریسکیو آپریشن بند کردیا اور اہل خانہ اور حکام کی متشرکا پریس کانفرنس میں تینوں کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کی گئی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نیپال کے پیمبا گلجئین شرپا سال 2008 میں 2 کوہ پیماؤں کو بچانے کیلئے 90 گھنٹے تک کے ٹو کے ڈیتھ زون میں رہے تھے۔

MOUNT EVEREST

ALI SADPARA

Tabool ads will show in this div