لاہور: سیشن عدالت میں ٹک ٹاک بنانے والا شخص گرفتار

قانون کےمطابق کاروائی عمل میں لائی جائےگی

لاہور کی سیشن عدالت میں ٹک ٹاک بنانے والے شخص کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

پولیس نے بتایا ہے کہ ہفتے کو سیشن عدالت میں اقدام قتل کیس میں پیشی پر آٸے ملزم کے ساتھی ٹک ٹاک بنارہے تھے۔ سیکورٹی انچارج نے بتایا کہ ملزمان گروپ بنا کر لوگوں کو ہراساں کررہے تھے۔ سیکورٹی انچارج نےملزم رحمان علی کو ایڈمن جج کے روبرو پیش کیا۔

ایڈمن جج نے کہا  کہ ملزم کیخلاف قانون کےمطابق کاروائی عمل میں لائی جائے۔ ملزم کا تعلق تحصیل میاں چنوں ضلع خانیوال سے ہے۔

پشاور ہائی کورٹ نے یکم اپریل کو ٹک ٹاک پر عائد پابندی دوبارہ کھولنے کی مشروط اجازت دے دی تھی۔ عدالت کا اپنے مختصر فیصلے میں کہنا تھا کہ ٹک ٹاک کو کھول دیا جائے تاہم اس پر موجود غیر اخلاقی مواد اپلوڈ نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی اے کے پاس ایسا سسٹم ہونا چاہیئے جو اچھے اور برے میں تفریق کرے۔

واضح رہے کہ رواں سال 11 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ نے شہری کی درخواست پر پاکستان بھر میں چینی ویڈیو موبائل ایپ ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم جاری کیاتھا۔

پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں چین کی ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک بند کردی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ تمام سروس پرووائیڈرز ٹک ٹک تک رسائی بند کردیں۔

ٹک ٹاک ترجمان کی جانب سے پابندی کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ مواد کے جائزے کیلئے مختلف ٹیکنالوجیز اور ماڈریشن اسٹریٹجی استعمال کی جاتی ہیں، قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ عائد اور اکاؤنٹ معطل کردیئے جاتے ہیں۔

قبل ازیں اکتوبر 2020ء میں بھی پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی تھی۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک انتظامیہ نے غیراخلاقی مواد پر قابو پانے کی یقین دہانی کرادی۔ جس کے بعد ٹک ٹاک بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

TIKTOK

Tabool ads will show in this div