لاہور ہائیکورٹ نے خفیہ نیلامی کو غیرآئینی قرار دے دیا

حکومت کو قانون سازی کرنے کا حکم
May 25, 2021
فائل فوٹو
فائل فوٹو
[caption id="attachment_2281949" align="alignnone" width="800"]Lahore-High-Court فائل فوٹو[/caption]

لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی کی پالیسی غیر آئینی قرار دے کر حکومت کو اس پر قانون سازی کا حکم دے ديا۔

منگل 25مئی کو توشہ خانہ کے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی روکنے کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست عدنان پراچہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

جسٹس قاسم خان نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا پی پی آر اے (پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی) کے قواعد خفیہ نیلامیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان تحائف کا تبادلہ دو ریاستوں کے معززین کے مابین ہوتا ہے، جس پر جج نے جواب دیا کہ تحائف کا تبادلہ ریاستوں کے مابین ہوتا ہے۔ جسٹس خان نے استفسار کیا کہ اگر وہ ریاستی معززین نہ ہوتے تو کیا انہیں یہ تحائف ملیں گے؟

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ وہ بولی کے عمل کا حصہ لینا چاہتے تھے لیکن اجازت نہیں دی گئی کیونکہ یہ عوامی نیلامی نہیں تھی۔ توشہ خانہ کی چیزیں پبلک پراپرٹی ہیں لیکن ایک سربراہ مملکت ایک ملین دے کر 34ملین کی چیزیں لے گئے۔

عدنان پراچہ کے مطابق اس میں ٹیکس فراڈ بھی ہو رہا ہے اور نیلامی میں ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا گیا۔

Tabool ads will show in this div