پی کے8303:فرانزک تفتیش کار کی ان کہی کہانیاں

لاش کی شناخت کیلئے ڈی این اے شواہدآخری مرحلہ ہوتا ہے

[video width="1280" height="720" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/05/Mirza-Wahid-Beg-Amir-Majeed-NEW.mp4"][/video]

ایک سال قبل کراچی میں ہونے والے پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 کے حادثے ، جس میں 98 افراد جاں بحق ہوئے تھے کے ٹھیک 2 روز بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے یونی ورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے رابطہ کیا۔ این ڈی ایم اے کے مطابق صرف ڈاکٹر ہمایوں تیمور ہی ایک ایسے ڈاکٹر ہیں جو انسانی دانت کے ذریعے مردے کی شناخت کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر ہمایوں تیمور محکمہ فرانزک میں بحیثیت آن آنڈولوجی کے کام کرتے ہیں۔ فرانزک ڈیپارٹمنٹ کی اس برانچ کا کام ڈینٹل ریکارڈ اور شواہد کے ذریعہ نتیجے پر پہنچنا ہوتا ہے، جب کہ یہ سیلفی کو دیکھ کر بھی انسانی لاش کی شناخت کرسکتے ہیں۔ انسانی جسم میں سب سے سخت حصہ دانت ہوتا ہے، جو ایسے موقع پر بھی اپنی ساخت برقرار رکھتا ہے، جب انسانی جسم پر شناخت کے لائق کچھ نہ بچا ہو۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سائنس کی اس اہم شاخ کو فرانزک ڈیپارٹمنٹ میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ خاص کر یورپ میں ہونے والے بڑے حادثات جیسے فضائی یا سال 2005 میں آنے والے سونامی میں بھی یہ ہی وہ محکمہ تھا جس نے لاشوں کی شناخت میں اہم کردار ادا کیا۔

سما ڈیجیٹل نے جب پی کے 8303 کی لاشوں کی شناخت میں پیش آنے والی دشواریوں اور تفصیلات سے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پی کے 8303 کے حادثے کے دو روز بعد جب ان کو کراچی بلایا گیا تو انہوں نے 40 لاشوں میں سے 13 لاشوں کو ڈینٹل ریکارڈ کے ذریعے کامیابی سے شناخت کیا۔

ان کے خیال میں این ڈی ایم اے کے پاس اس قسم کے کاموں کا شدید فقدان تھا اور کوئی ماہر موجود نہ تھا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ایک خاص وقت تک کام کرنے کے بعد اجازت چاہی، کیوں کہ ایسے بہت سے افراد جنہیں ان کاموں کا نہ کوئی تجربہ تھا نہ کوئی معلومات وہ اس میں شامل ہوگئے تھے اور پولیس کو اس پر کوئی کنٹرول حاصل نہ تھا اور نہ پولیس کچھ کرسکی تھی۔ ان تمام تر حالات میں کام کرنا ایک گھمبیر صورت حال کی طرح تھا کہ لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں کو لینے کیلئے بے چین تھے اور یہاں موجود ٹیم کے پاس کوئی جواب نہ تھا، کیوں کہ اس تفتیشی آپریشن میں شامل لوگ ماہر نہ تھے۔

صرف یہ ہی نہیں بلکہ حادثے کے بعد کے اکثر معاملات کو بھی اناڑیوں کی طرح سنبھالا گیا تھا۔ جیسے جب ڈاکٹر تیمور کراچی پہنچے تو لاشیں جن باکسز میں تھیں، ان پر 3 مختلف ناموں کے ٹیگز لگے ہوئے تھے اور اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ لاشوں کی شناخت کے پہلے مرحلے میں ہی کوتاہی برتی گئی، صرف یہ ہی نہیں بلکہ دوسرے مرحلے میں بھی غلطیاں کی گئی اور پھر تیسری بار لاشوں کو دوبارہ سے شناخت کیا گیا۔ یوں کہیں کہ مرنے والوں کو تین بار اپنے شناخت کا انتظار کرنا پڑا تو غلط نہ ہوگا۔ اندازہ لگائیں کہ اتنے بڑے حادثے کے بعد ان خاندانوں پر کیا بیتی ہوگی۔

بات جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر تیمور نے مزید کہا کہ معاملہ یہاں ہی تمام نہ ہوا۔ لاشوں کو لواحقین کے سپرد کرنے کے معاملے میں بھی سنگین غلطیاں کی گئیں۔ لاشوں کو ورثا کے حوالے کرنے کا ایک باقاعدہ طریقہ کار ہوتا ہے، جس میں آپ مکمل اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لاش جن ورثا کو دی جا رہی ہے، وہ انہیں کے پیاروں کی ہیں۔ انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن ( اںٹر پول) کے متعین کردہ قانون کے مطابق لاشوں کی شناخت کیلئے سب سے پہلے فنگر پرنٹ سے تصدیق کی جاتی ہے، اگر وہ بھی میچ نہ ہوں تو ڈینٹل ریکارڈ اور پھر آخر میں ڈی این اے کی باری آتی ہے۔

ان کے مطابق لاشوں کی شناخت کے عمل میں 4 چیزیں اہم ہیں، یا تو ممکن ہے، یا ہوسکتا ہے، یا اس میں کوئی شک نہیں یا پھر یہ بات بالکل خارج از امکان ہے کہ شناخت میں غلطی ہو۔ ہم اندازوں یا مفروضوں پر لاش کی شناخت کرکے ورثا کے حوالے نہیں کر سکتے۔ لاشوں کی شناخت کیلئے حتمی فیصلہ تفتیشی افسر کو کرنا ہوتا ہے کہ جو ان چاروں معیار کو جانچ کر لاشوں سے متعلق اپنا فیصلہ لے۔ ان کے فیصلے پر ہی لاش کو ورثا کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر تیمور کے مطابق لاشوں کی شناخت کے عمل میں 4 چیزیں اہم ہیں، یا تو ممکن ہے یہ لاش فلاں فلاں ورثا کی ہو، یا ہوسکتا ہے، یہ لاش فلاں فلاں ورثا کی ہو، یا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لاش فلاں فلاں شخص کی ہو، یا پھر یہ بات بالکل خارج از امکان ہے کہ شناخت میں غلطی ہو۔

لاشوں کی شناخت کے عمل سے متعلق ڈاکٹر تیمور نے مزید بتایا کہ کسی بھی لاش کی شناخت میں ڈی این اے سب سے آخری راستہ ہوتا ہے، کیوں کہ اس میں ایک تو وقت زیادہ لگتا ہے ، دوسرا یہ کہ یہ مہنگا طریقہ ہے۔ ڈی این اے کے شواہد حاصل شدہ فیصد کے حساب سے ہوتے ہیں۔ فرانزک سائنس کی دنیا میں ہم ڈی این اے کیلئے چال کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے اپ کو لاش کا ڈی این اے میچ کرنے یا معلوم کرنے کیلئے متعلق شخص کے اہل خانہ کے کسی فرد کا ڈی این اے سے میچ کرکے دیکھا جاتا ہے۔

تاہم پی کے 8303 کے حادثے میں جاں بحق افراد کی شناخت کیلئے ڈی این اے کے پروٹوکول پر عمل نہیں کیا گیا۔ 8 لاشوں کو جسمانی ساخت کی بنا پر ہی ورثا اپنے ساتھ لے گئے۔

ڈاکٹر تیمور نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 13 لاشوں کی شناخت کرچکے تھے مگر پھر بھی پولیس نے ڈی این اے کرکے لاشوں کی شناخت کی۔ کچھ کیسز میں تفتیشی افسر نے ڈاکٹر تیمور کی رپورٹ کی تصدیق کی۔

ایک فیملی ایسی بھی تھی جس کا ڈی این اے لاش سے تو میچ ہوگیا تھا، تاہم انہوں نے ڈینٹل ریکارڈ آنے تک لاش وصول نہیں کی اور رپورٹ کا انتظار کیا۔

ورثا کی جانب سے بھی تدفین کیلئے بہت دباؤ تھا۔ جامعہ کراچی کے شعبہ انٹر نیشنل سینٹر برائے کیمیکل اور بائیولوجیکل سائنسز نے بھی اس سلسلے میں سسٹم کے تحت کام کیا اور ڈی این اے رپورٹس مرتب کیں۔

اس موقع پر انہوں نے ایک فیملی کا ذکر کی اور متاثرہ شخص مرزا وحید بیگ کا بتایا کہ کیسے ان کے اہل خانہ صرف جوتے کی بنا پر لاش کو شناخت کر رہے تھے، تاہم جب ڈینیٹل ریکارڈ کے ذریعے جانچ پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ لاش مرزا وحید بیگ کی نہیں بلکہ پاکستان ایئر فورس کے فلائنگ آفیسر کی تھی، جس نے مرزا وحید جیسے ہی جوتا پہن رکھا تھا۔ اس تمام تر جانچ پڑتال کے عمل کے دوران بار بار مرزا وحید کی فیملی کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا اور ااصرار کیا گیا کہ یہ مرزا وحید کی ہی لاش ہے جو انہیں دی جائے تاہم تفتیشی افسر کی جانب سے مکمل جانچ پڑتال تک ایسا نہیں کیا گیا اور نتیجے سب کے سامنے ہے کہ وہ لاش  مرزا وحید کی نہیں تھی۔

ہمیں مرزا وحید کی فیملی کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا تھا، جن کے اپنے بھی ذرائع تھے، مگر پھر فلائنگ آفیسر کے اہل خانہ بھی جوتے کا ڈبہ ساتھ لائے۔ جوتے کے ڈبے پر موجود سیریل نمبر  اور لاش پر موجود جوتا کو جب  الگ کر کے دیکھا گیا تو نمبر میچ ہوگیا، جس سے ہمیں تصدیق ہوگئی کہ لاش کس کی ہے۔

سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں انہوں نے ایسے کئی دیگر واقعات کا بھی ذکر کیا جہاں ماہرین کی رائے اور معلومات نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حادثات سے نمٹنے کیلئے این ڈی ایم اے کو اس جانب سوچنا ہوگا، این ڈے ایم اے کو بڑے حادثات سے نبردآزما ہونے کیلئے ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

جب کہ سندھ حکومت کو بھی کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں بڑے کولڈ اسٹوریج سسٹم یا مردہ خانے کیلئے کام کرنا ہوگا، جہاں شناخت کا عمل مکمل ہونے تک لاشوں کو ایک ماہ تک رکھا جا سکے اور لواحقین کو مزید کسی مشکلات سے نہ گزرنا پڑے۔

پرواز پی کے 8303 کیلئے اپنے کام کو خیرباد کہنے سے متعلق انہوں کہا کہ اتنے بڑے حادثے کو مختلف شعبوں کی جانب سے انتہائی پھونڈے طریقے سے نمٹا گیا۔ پولیس کی جانب سے لاشوں کو ورثا تک پہنچانے کیلئے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ جہاں ایک اے ایس آئی کی آڈیو کلپ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس آڈیو کلپ میں اے ایس آئی کو کہتے سنا گیا کہ لاہور کے ڈاکٹر کو اپنا کام کرنے دیں، ہم ایسے کوئی لاش اس کی مرتب کردہ کسی رپورٹ کی روشنی میں ورثا کے حوالے نہیں کریں گے۔

یہ آڈیو کلپ تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی، اور اتنی بد انتظامی اور ناروا سلوک کے بعد بالا آخر میں نے یونی ورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور رخصت طلب کرتے ہوئے لاہور روانہ ہوگیا۔

CRASH

FORENSIC

PK-8303

Tabool ads will show in this div