اسرائیل، حماس میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا

معاہدے میں مصر نے ثالث کا کردار ادا کیا
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی
Israel Palestine Ceasefire فوٹو: اے ایف پی

اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 دن بعد جنگ بندی کا غیر مشروط معاہدہ طے پا گیا جس پر مقبوضہ بیت المقدس، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ جشن منایا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق جنگ بندی کا اطلاق فلسطينی وقت کے مطابق رات 2 بجے ہوا جبکہ معاہدے میں مصر نے ثالث کا کردار ادا کیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کابینہ نے ''غیر مشروط جنگ بندی کے لیے مصر کے اقدام کو قبول کرنے کے لیے متفقہ طور پر سفارشات کو قبول کیا''۔

اس کے بعد فلسطینی گروپ حماس نے ایک بیان میں جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کا نفاذ جمعہ کی صبح 2 بجے ہوگا۔

غزہ اور فلسطینی علاقوں میں ہزاروں افراد جنگ بندی کا جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ ہاتھوں میں پرچم تھامے نوجوانوں نے آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

اسرائیلی وزیراعظم نےفلسطینیوں کیخلاف بربریت کااصل مقصد بتادیا

واضح رہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 65 بچوں سمیت کم سے کم 232 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ میڈیا ہاؤسز سمیت کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔

جنگ بندی پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنگ بندی فلسطین میں قیام امن کی طرف پہلا قدم ہے جوکہ اجتماعی اور متحدہ عمل کی طاقت کا نتیجہ ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے جائز حقوق اور استصواب رائے کے حق کی حمایت کرتے ہیں اس لیے اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں پر عمل درآمد کرایا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مسئلہ فلسطین پر بلائے گئے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب بھی کیا تھا جس میں جنب بندہ کا مطالبہ دہرایا تھا۔

Tabool ads will show in this div