کالمز / بلاگ

سیالکوٹ کے سرکاری خربوزے

سو لفظوں کی کہانی

مائی زلیخاں اپنے بیٹے کیلئے افطاری لینے بازار پہنچی تو بہت رش تھا

بیٹے کو آج پہلی تنخواہ ملنی تھی اور ماں کو عمر بھر کی کمائی

مائی نے خربوزے کے سرکاری نرخ پوچھے تو دکاندار بولا ’’بیس روپے کلو‘‘۔

لیکن یہ تو گلا سڑا ہے، اماں بولی

 یہ سرکاری خربوزا ہے ناں، دکاندار آہستہ سے بولا

اتنے میں بازار میں ایک وزیر اور سرکاری افسر کی لڑائی شروع ہوگئی۔

اماں نے جلدی سے وہ پھل اور آنکھوں میں آنسو اٹھائے اور چل پڑی۔

شکر ہے آج سارے سرکاری خربوزے بک گئے، دکاندار بولا۔

کالمز / بلاگ

Tabool ads will show in this div