کالمز / بلاگ

کیا تحریک لبیک پاکستان پر پابندی مسئلے کا حل ہے؟

حکومت معاملہ دانشمندی سے سلجھاسکتی تھی

کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے فرانس کے ایک جریدے میں گزشتہ برس پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، وزیر داخلہ بریگیڈیئر سید اعجاز شاہ، مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر، سیکریٹری داخلہ اور کمشنر اسلام آباد نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی (مرحوم) کے ساتھ  16 نومبر 2020ء کو مذاکرات کئے اور نتیجے میں ایک معاہدہ طے پایا جسے تحریک لبیک کی جانب سے شیئر بھی کیا گیا۔

تحریک لبیک پاکستان کے مطابق، مذاکرات میں 4 نکات پر اتفاق کیا گیا جن کے تحت فیصلہ ہوا تھا کہ حکومت دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے گی، فرانس میں پاکستان کا سفیر بھی نہیں لگایا جائے گا، تمام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور تمام کارکنان کی رہائی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کی صورت میں فروری 2021ء میں ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل 2021ء تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

وزیر داخلہ شیخ رشید اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مذاکرات جاری تھے کہ اچانک ٹی ایل پی کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کو گرفتار کرلیا گیا۔ علامہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے ساتھ ہی ملک کے مختلف شہروں میں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نے جس طرح ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا وہ پہلی بار نہیں ہوا، ماضی میں بھی تحریک لبیک پاکستان ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتی رہی ہے۔ اس جماعت کی جانب سے کئے گئے مظاہروں اور دھرنوں کے بارے میں سوال اُٹھائے جاتے رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے ان کیلئے نرم گوشہ پایا جاتا ہے۔ فیض آباد دھرنے میں بھی عدلیہ اور ریاستی اداروں کے بارے میں جو زبان استعمال کی اس پر بھی حکوت نے خادم حسین رضوی کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی تھی۔

یہ بھی انتہائی حیران کن امر تھا کہ سن 2017ء میں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہونیوالی جماعت جس نے ممتاز قادری کے نام پر اپنی انتخابی مہم چلائی اس کے بیشتر امیدوار 2018ء کےانتخابات میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر آئے۔ تحریک لبیک نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر 21 لاکھ 91 ہزار 679 ووٹ حاصل کئے۔ پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر تحریک لبیک 18 لاکھ 76 ہزار جبکہ سندھ سے تحریک لبیک کو 4 لاکھ 41 ہزار ووٹ حاصل کیے اور 2 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ حال ہی میں پنجاب میں ڈسکہ کے الیکشن میں جہاں مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا، وہاں سے بھی تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار محمد خلیل سندھو نے خاموشی سے 8 ہزار 268 ووٹ حاصل کرلیے۔

کالعدم سپاہ صحابہ جو اب اہل سنت و الجماعت کے نام سے سرگرم ہے، کی قیادت نے انتخابات کیلئے راہ حق کا پلیٹ فارم استعمال کیا تھا۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے مرکز جھنگ سے راہ حق پارٹی کسی ایک نشست پر کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سیاسی پلیٹ فارم ملی مسلم لیگ کے نام سے عام انتخابات میں 250 سے زائد قومی اور صوبائی نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے گئے تھے تاہم کسی بھی حلقے سے وہ قابل ذکر ووٹ حاصل نہ کرسکے۔ ایک مذہبی جماعت کی حیثیت سے تحریک لبیک ووٹ حاصل کرنے والی چوتھی بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ اس جماعت نے ایک بار پھر بریلوی سیاست کو دوبارہ زندہ کیا ہے اور ایک مضبوط اسٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آئی ہے، ان کا اثر زیادہ تر غریب اور متوسط طبقہ میں ہے، اس جماعت کو ملک بھر کے بریلوی مدرسوں کی سپورٹ حاصل ہے۔ جب بھی تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے مظاہرے کئے گئے ان میں بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے مدارس کے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس جماعت کے کارکنوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہوگی جس کی ایک جھلک قوم نے تحریک لبیک پاکستان کے بانی خادم حسین رضوی کی تدفین پر دیکھی تھی۔

پھر ایسی کیا بات ہوئی کہ مذاکرات کے سلسلے کو ختم کرکے وفاقی وزیر داخلہ نے اچانک تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا۔ کیا اس طرح مسئلہ حل ہوجائے گا؟، پابندی کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج پنجاب کے مختلف شہروں میں جاری ہے، پولیس اور انتظامیہ بھی ان کے خلاف آپریشن کررہی ہے۔ صورتحال بہتر ہونے کی بجائے بگڑتی جارہی ہے، کوئی ایک بڑا واقعہ بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق تحریک لبیک پاکستان پر انسداد دہشت گردی کے قانون سن 1997ء کی شق نمبر 11۔بی کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے اور اس وقت پاکستان میں 78 تنظیمیں اور ہیں جن پر اس قانون کے تحت پابندی عائد ہے۔ اس قانون کے تحت جب کسی جماعت یا تنظیم پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو اسے فرسٹ شیڈول کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔ تنظیم کے تمام سیاسی دفاتر سیل کر دیئے جاتے ہیں اور ان میں موجود تمام آفس ریکارڈ اور مواد بھی تحویل میں لے لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم کے تمام مالی اثاثے بھی منجمد کردیئے جاتے ہیں۔ تنظیم کو الیکشن یا کسی اور سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ تنظیم کسی فلاحی یا مذہبی مقاصد کیلئے مالی امداد اکھٹا کرسکتی ہے۔

پاکستان میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر پابندیوں کی بھی ایک تاریخ ہے۔ ملک میں سب سے پہلے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر پابندی لگائی گئی اور اس کے رہنماؤں کو پنڈی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ جگتو فرنٹ، عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی پر بھی پابندی لگی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں پر پابندی لگائی گئی تھی، ان میں جیش محمد، لشکر طیبہ، جماعت الدعوۃ، سپاہ صحابہ، پاکستان تحریک جعفریہ اور بے شمار دوسری تنظیمیں شامل تھیں۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر پابندی کے فیصلے ہمارے یہاں پائیدار نہیں رہے۔ نیشنل عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی کی مثال ہمارے سامنے ہے، کئی جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیمیں آج بھی نام بدل کر کام کررہی ہیں، کچھ ایسی جماعتیں ہیں جو قانونی طور پر کالعدم ہیں لیکن وہ دوسرے ناموں کے ساتھ فعال ہیں۔

پاکستان کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا تجزیہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے حوالے سے جو کچھ دکھایا جارہا ہے یا جو کچھ حکومت کے ترجمانوں کی جانب سے بتایا جارہا ہے وہ کہانی کا ایک رخ ہے، دوسرا رخ کچھ اور ہے۔ کیوں کہ پاکستان کی سیاست میں مذہبی کارڈ ہمیشہ ترپ کے کارڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، مذہبی جماعتیں قومی اور صوبائی اسمبلی میں بڑی تعداد میں نشستیں حاصل کرنے میں تو کامیاب نہیں ہوتیں لیکن مخالفین کے ووٹ کاٹنے میں ان کا اہم کردار ادا رہا ہے۔ حکومت مخالف تحریکوں میں مذہبی کارڈ سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا ہے۔

رمضان المبارک کے بعد جب ایک بار پھر سیاست کا دنگل سجے گا، اُس وقت تحریک لبیک پاکستان کسی نہ کسی شکل میں اہم کردار ادا کرتی ہوئی نظر آئے گی اور یہ ممکن ہے کہ 20 اپریل کے بعد وہ اسلام آباد کی جانب دھرنے کیلئے مارچ کا آغاز کرے۔ تحریک لبیک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ اب عدالتیں ہی کریں گی لیکن ناموس رسالت ﷺ اور ختم بنوتؐ کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والی اس جماعت نے اسلام آباد میں 3 کامیاب دھرنے دیے ہیں۔ کامیاب اس لحاظ سے کہ جب حکومت کسی تنظیم یا جماعت کے مطالبات کو تسلیم کرلے اور معاہدوں میں عملدرآمد کی یقین دہانی کردے تو پھر ایسے دھرنوں کو کامیاب ہی کہا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اور ان کی مذاکراتی ٹیم کو قوم کے سامنے تحریک لبیک کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کو سامنے لانا چاہئے اور قوم کو بتانا چاہئے کہ  ایسی کیا مجبوری تھی کہ آپ کو ایک ایسی جماعت سے مذاکرات کرنے پڑے جس کے بارے میں اب آپ کو یقین ہے کہ یہ ملک میں دہشت گردی اور دوسرے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہے اور یہ جماعت ملک میں لوگوں کو مبینہ طور پر اُکسا کر انتشار پیدا کرنے میں ملوث ہے۔ سابق اور موجودہ وزیر داخلہ مذاکرات کرتے وقت اس بات سے بے خبر کیوں تھے کہ ’یہ ایک دہشت گرد جماعت ہے‘۔ کیا وزیر داخلہ کے ماتحت خفیہ ایجنسیوں نے تحریک لبیک پاکستان کے بارے میں رپورٹ نہیں دی تھی۔

جن عناصر نے تحریک لبیک کے سربراہ کی گرفتاری پر احتجاج کے نام پر ملک بھر میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا اور جنہوں نے پولیس اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، ان کے خلاف یقیناً قانونی کارروائی ہونی چاہئے اور ان واقعات میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا حکومت نے اپنا کوئی کردار ادا کیا، جب شرپسند عناصر ریاست کی رٹ کو چیلنج کررہے تھے اس وقت حکومت، وزیر داخلہ کہاں تھے۔ کیا وزیراعظم اپنے سب سے ہونہار وزیر جو اس وقت وزیر داخلہ ہیں ان سے جواب طلب کریں گے، انہیں کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔

راقم رشید جمال شعبہ صحافت سے 1993ء سے وابستہ اور کراچی سے شائع ہونے والے میگزین رہبر کے ایڈیٹر ہیں، جن کے مختلف اخبارارت میں کالم اور انٹرنیشنل جنرل میں ریسرچ پیپر بھی شائع ہوتے ہیں۔ آپ سندھ دوراہے پر، سندھ پنجاب تضاد، بلوچستان مسئلہ کیا ہے، مسئلہ کراچی اسباب و حل سمیت 14 کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

Pakistan Tehreek Insaaf

SAAD RIZVI

Tehreek-e-Labbaik Pakistan

Tabool ads will show in this div