لاہور: مظاہروں پرجےآئی ٹی بنانےکا معاملہ، درخواستگزار پر2لاکھ روپے جرمانہ

لاہور ہائیکورٹ نے درخواست مسترد کردی
[caption id="attachment_2104021" align="alignnone" width="800"]LHC فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ[/caption]

چيف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ٹی ايل پی مظاہروں کے معاملے پر جے آئی ٹی بنانے کے لیے درخواست گزار پر 2لاکھ روپے جرمانہ عائد کر کے درخواست مسترد کر دی۔

درخواست وکلا کی نجی تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی جس میں سعد رضوی کی گرفتاری اور مظاہروں کے معاملے پر جے آئی ٹی بنانے کی درخواست کی گئی۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ سعد رضوی کی گرفتاری کے فوراً بعد مظاہروں سے لوگوں کو مشکلات ہوئیں اور پولیس نے قانون کے مطابق اپنی ڈیوٹیاں ادا نہ کی۔

چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ یہ پنچائت نہیں اس لیے قانون کی بات کریں۔ معلومات کا ادارہ ہے پہلے وہاں جانا چاہیے تھا اور اسلام سڑک بلاک کرنے والوں کے خلاف کہتا ہے۔

لاہور: تحریک لبیک مظاہرین کیخلاف آپریشن، اہم شاہراہیں کھل گئیں

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایمبولینس کے راستے بند ہونے سے جانیں گئیں انکی بات ہی نہیں کر رہے اور پولیس اہکاروں پر تشدد ہوا ان کے متعلق کیوں بات نہیں کر رہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی کیسے بنے گی اور کس قانون کے تحت بنے گی۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہم نے سب کچھ درخواست میں لکھا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لکھا ہے لیکن اس پر مانگا کچھ نہیں ہے۔ سب پتہ ہے کہاں کہاں سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔

وکیل کے جواب نہ دے سکنے پر عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر 2لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

TLP

Tabool ads will show in this div