مریم نوازکوگرفتارکرنا ہو تو10روزپہلے آگاہ کیاجائے،عدالت

عدالت نے درخواست ضمانت نمٹا دی

لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت پر نیب کو ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز شریف کو گرفتار کرنا ہو تو نیب حکام 10 روز قبل انہیں آگاہ کریں۔

لاہور ہائی کورٹ میں 12 اپریل بروز پیر رائے ونڈ اراضی کیس میں مریم نواز کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز اور نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر فیصل بخاری بھی بینچ کے روبرو پیش ہوئے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے گئے۔ 10 اپریل کو جواب جمع کرایا گیا تھا۔ جس پر عدالت نے نیب کو مریم نواز کی گرفتاری سے 10 روز قبل آگاہ کرنے کا حکم دیا اور ان کی درخواست ضمانت نمٹا دی۔

درخواست میں مریم نواز شریف نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکومت کے دباؤ پر نیب درخواست گزار کو گرفتار کرنا چاہتا ہے۔ نیب حکومت کے اشارے پر سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ کر رہا ہے۔ عمران خان حکومت کو بچانے کیلئے نیب درخواست گزار کو گرفتار کر سکتا ہے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ نیب عمران خان کے کہنے پر انتقامی کارروائیاں کرتا ہے۔ نیب پولیٹیکل انجینیرنگ کا ادارہ ہے۔ ن لیگ کیخلاف دن رات پروپیگنڈا کیا گیا۔ ن لیگ کو دبانے اور ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ فروری میں یہ دھاندلی کرکے بھی نہیں جیت سکے۔ ہر فورم پر شکست کے بعد انہیں عوام کے میدان میں آنا پڑا۔ یہ سپریم کورٹ گئے کہ ہمیں عوام کی شکست سے بچاؤ۔

مریم کا مزید کہنا تھا کہ یہ میدان میں آئے تو عوام کے ووٹوں نے الٹے پاؤں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ عوام نے ان کو ووٹ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا، ن لیگ کو توڑنے کیلئے 5 سال سرتوڑ کوشش کی گئی۔ رانا ثنا اللہ پر جھوٹا مقدمہ بنایا۔

ایک سوال کے جواب میں نائب صدر نے کہا کہ جہانگیر ترین کے آپس کے معاملات پر کچھ نہیں کہنا چاہتی۔ حکومتی اراکین ٹی وی پر حکومت کیخلاف بات کر رہے ہیں۔

Tabool ads will show in this div