راوی اربن ریورپراجیکٹ: حکام کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری

عدالتی احکامات نظر انداز کرنے پر توہین عدالت کی درخواست
[caption id="attachment_2180324" align="alignnone" width="662"] فائل فوٹو[/caption]

لاہورہائیکورٹ نےراوی اربن ریور پراجیکٹ کیلئے زرعی اراضی واگزارنہ کرنے کے عدالتی احکامات نظر انداز کرنے پر توہین عدالت کی درخواست پر پنجاب حکومت اور کنٹرولر لینڈزایکوزیشن کو نوٹس جاری کردیئےہیں۔

بدھ کولاہور ہائیکورٹ نے جسٹس شاہد کریم نےشیرازذکا ایڈووکیٹ کی توہین عدالت کی درخواست  پر سماعت کی۔درخواست میں نشاندہی کی گئی کہ عدالت نے راوی اربن ریور پراجیکٹ کیلئے زرعی اراضی واگزارکرنے سے روکا تھا لیکن عدالتی حکم کے باوجود راوی اربن پراجیکٹ کے ایکوزیشن کنٹرولراور ڈائریکٹرسمیت دیگر حکام زمین ایکوائرکررہےہیں۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود زرعی اراضی واگزارکرنے کا عمل شروع کردیا گیا اورعدالتی احکامات نظرانداز کردیئے گئے۔

درخواست میں نکتہ اٹھایا گیا کہ عدالتی احکامات پرعمل نہ کرنا توہین عدالت ہے،اس لیےکارروائی کی جائے۔درخواست پر مزید کارروائی20اپریل کوہوگی۔

تین ماہ قبل لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ ماحولیات کی جانب سے ماحولیاتی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے جانے تک حکام کو راوی ریور اربن پراجیکٹ پر تعمیرات سے روک دیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ محکمہ تحفظ ماحولیات سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے مکمل جائزے اور منظوری کے بعد راوی ریور اربن پراجیکٹ پر کام شروع کیا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے 4 دسمبر کو بتایا تھا کہ منصوبے پر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کی جانب سے کام شروع کردیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے 18 دسمبر کو صوبائی کابینہ کے اجلاس کے دوران منصوبے کیلئے 5 ارب روپے کے قرض کی منظوری دی تھی۔ یہ رقم زمین کی خریداری پر صرف ہونی ہے۔

پچیس مارچ کو لاہور ہائی کورٹ نےراوی ریور اربن پراجیکٹ پر جاری حکم امتناعی میں توسیع کردی تھی۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کےلیے خود مختار ادارے سے کروانے کا حکم دیا ہے۔

RAVI URBAN PROJECT

Tabool ads will show in this div