ہم تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں، جہانگیر ترین

ضمانت میں 10اپریل تک توسیع
Apr 07, 2021

Jahangir Tareen Talk Lhr 07-04

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/04/Jahangir-Tareen-Talk-Lhr-07-04.mp4"][/video]

تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ میری تحریک انصاف سے راہیں جدا نہیں ہوئیں بلکہ تحریک انصاف میں موجود ہوں لیکن ہم تحریک انصاف سے اسوقت انصاف مانگ رہے ہیں۔

لاہور میں بینکنگ کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ میں تو دوست تھا مجھے دشمنی کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے۔ سوال اٹھایا کہ یہ انتقامی کارروائی کیوں ہو رہی ہے؟

جہانگیر ترین نے کہا کہ مجھ پر ایک نہیں 3ایف آئی آر درج کی گئیں جبکہ کیس ابھی شروع نہیں ہوا اور میرے بینک اکاؤنٹ کیوں منجمد کر دیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال سے خاموش ہوں، میری وفاداری کا اور کیا ثبوت چاہیئے۔

راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نہ ہوتے تو یہ اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکتے تھے جبکہ پنجاب حکومت بھی جہانگیر ترین نے بنائی۔ عمران خان کے ارد گرد کے لوگ تحریک انصاف کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

شوگر کیس: جہانگیر ترین کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

شوگر کیس کے مقدمے میں جہانگیر ترین اور علی ترین 7اپریل کو بینکنگ کورٹ میں ضمانت میں توسیع کے لیے پیش ہوئے جہاں عدالت نے 10اپریل تک ضمانت میں توسیع کردی۔

اس موقع پر لالہ طاہر رندھاوا، راجہ ریاض، نعمان لنگڑیال، سلمان نعیم، غلام بی بی بھروانہ، خرم لغاری اور عبدالحی دستی بھي جہانگير ترين کے ہمراہ تھے۔

ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور بیٹے علی ترین کو 9 اپریل کو طلب کر رکھا ہے۔ ایف آئی اے کی جے ڈی ڈبلیو کے سی ای او کے طور پر جہانگیر ترین کو 5سوالات کے جوابات ساتھ لانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ 15 نومبر 2020 کو چینی بحران کیس اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں ایف آئی اے نے جہانگیر ترین ، ان کے بیٹے علی ترین اور شہباز شریف کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

JAHANGIR TAREEN

Tabool ads will show in this div