میزائل حملوں کے خاتمے تک مذاکراتی عمل میں پیشرفت خام خیالی ہے، چوہدری نثار

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار میزائل حملوں کے خاتمے تک مذاکراتی عمل میں پیشرفت خام خیالی ہے، اے پی سی میں تمام رہنماؤں نے ذاتی اور سیاسی مفاد پر ملکی مفاد کو مقدم رکھا حکومت کو مذاکرات کا اختیار دیا افواج پاکستان نے بھی مذاکرات کی حمایت کی، مذاکراتی عمل کو صرف 12 گھنٹے پہلے میزائل حملہ کرکے سبوتاژ کیا گیا، کون شہید ہے کون نہیں کی بحث انتہائی نقصان دہ ہے۔


قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم فساد کو روکنا چاہتے ہیں اور اس ملک میں امن لانا چاہتے ہیں، کل جماعتی کانفرنس میں قومی یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا گیا، پاکستان کے مفادات کیلئے تمام سیاسی جماعتیں یک زبان ہیں، تمام رہنماؤں نے ذاتی اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی مفاد مقدم رکھا۔


انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کو مذاکرات کا اختیار دیا اور بھرپور حمایت کی، میزائل حملوں کی بندش پر بھی اتفاق کیا گیا۔


ان کا کہنا ہے کہ ہمارے کئی دوست اور کئی دوست نما دشمن ہیں، مشکل ترین حالات میں ملکی مفاد کا تحفظ ہمارا فرض ہے، ملکی مفاد اور پالیسی مخالفت کی متحمل نہیں ہوسکتی، ہم نے ہمیشہ پاکستان کا مفاد مقدم رکھا،  کون شہید ہے کون نہیں یہ بحث انتہائی نقصان دہ ہے، کراچی کے حالات میں خاصی بہتری آئی ہے، ملکی آئین کے مطابق کراچی آپریشن کا نگران وزیراعلیٰ سندھ کو بنایا، وزیراعظم آئندہ ماہ افغانستان کا دورہ کریں گے۔


چوہدری نثار نے بتایا کہ بڑی مشکل سے مذاکرات کی بنیاد رکھنے جارہے تھے، طالبان نے باضابطہ مذاکرات کا پیغام دیا، جس کا آغاز ہونے جارہا تھا، مذاکراتی عمل کو صرف 12 گھنٹے پہلے میزائل حملہ کرکے سبوتاژ کیا گیا، یہ میزائل حملہ کسی ایک شخص پر نہیں مذاکراتی عمل پر تھا۔


انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ میزائل  حملے ہر صورت بند ہونے چاہئیں، یہ جاری رہے تو مذاکراتی عمل میں پیشرفت خام خیالی ہوگی، حکیم اللہ محسود پر میزائل حملے میں نہ افواج پاکستان ملوث تھی اور نہ ہی حکومت کا اس میں کوئی کردار تھا۔


چوہدری نثار کہتے ہیں کہ اللہ کے بعد اس ایوان کو جوابدہ ہوں، امن عمل کو کامیاب بنانے کیلئے دل و جان سے کوشش کی، مذاکراتی عمل جاری رکھنا چاہتے تھے، میڈیا کے سامنے پیش نہ ہونے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، ہمیشہ کوشش کی کہ کسی تنازع میں پڑے بغیر آگے بڑھیں، خود کو صحیح ثابت کرنا ضروری نہیں، ملک کو مشکل ترین صورتحال سے نکالنا سب سے اہم ہے۔


وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ گزشتہ 5 ماہ میں افواج پاکستان اور تمام ایجنسیز نے امن عمل کی دل و جان سے حمایت کی، فوج چاہتی تو جنرل نیازی اور افسران کی شہادت پر امن عمل سے پیچھے ہٹ جاتی مگر انہوں نے حمایت جاری رکھی، فوجی جوانوں میں اس واقعے پر کافی غم و غصہ تھا جسے قیادت نے ٹھنڈا کیا اور امن عمل پر اثر نہ پڑنے دیا، پی ٹی آئی نے ہمیشہ امن کی بات کی، کبھی امریکا کی حمایت نہیں کی ان پر بھی حملے کئے جارہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے اپنے دور میں افواج پاکستان کو غلط طریقے سے استعمال کیا، امریکا نے ہمیشہ پاک فوج پر افغان طالبان کی حمایت کا الزام لگایا مگر دوحا مذاکرات کیلئے انہی کی مدد سے طالبان کو مذاکرات پر راضی کیا گیا، یہ کہنا انتہائی غلط ہے کہ پاکستان کی فوج امریکا کے کہنے پر کارروائی کررہی ہے یا کرتی ہے، افواج پاکستان سے متعلق کسی قسم کا تنازع زہر قاتل سے کم نہ ہوگا۔ سماء

میں

کے

recipe

Benazir

southampton

Tabool ads will show in this div