مالی فراڈ کے الزام میں جہانگیر ترین کیخلاف مقدمہ

مقدمے میں جہانگیر ترین کا بیٹا اور داماد بھی نامزد
Mar 31, 2021
فائل فوٹو
فائل فوٹو
[caption id="attachment_2232939" align="alignnone" width="700"]jahangir-khan-tareen فائل فوٹو[/caption]

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 3.14 ارب روپے کے مالی فراڈ کے الزام میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

ایف آئی اے نے مقدمے میں جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین اور داماد کو بھی نامزد کیا ہے۔

ايف آئی آر متن کے مطابق جہانگیر ترین نے داماد کی بند فیکٹری میں 3.14 ارب روپے منتقل کیے اور يہ رقم بعد ازاں فیملی ممبران کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی۔

پی ٹی آئی جہانگیر ترین کا داماد گودے کے درخت سے پیپر بناتا تھا جبکہ جہانگیر ترین کی فیکٹری میں 26 فیصد پبلک شيئر ہولڈرز ہیں۔

دوسری جانب جہانگیر ترین نے ایف آئی کے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ بیرون ملک منتقل کی گئی رقم پر ٹیکس ادا کیا گیا اور رقم بینکوں کے ذریعے منتقل کی گئی جبکہ ایف آئی اے کو کاغذات مہیا کر چکا ہوں۔

جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ تمام شئیرز اور کھاتے قانون کے مطابق منتقل کیے جبکہ بیٹے کے تمام اثاثے قانونی ذرائع سے بنائے گئے اور منی ٹریل بھی موجود ہے۔ جے ڈی ڈبلیو کی فاروقی پلپ ملز میں سرمایہ کاری کاروباری ٹرانزیکشن تھی جبکہ میرے اور خاندان کے تمام اثاثے ڈکلیر ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

JAHANGIR TAREEN