بنوں:جانی خیل اورحکومت کے مابین معاہدے پردستخط،احتجاج ختم

لواحقین کو 25-25 لاکھ روپے دینے کا اعلان

بنوں میں جانی خیل اور خیبرپختونخوا حکومت کے مابین معاہدے طے پا گیا، جس کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا۔

خیبرپختونخوا (کے پی) کے ضلع بنوں میں گزشتہ ہفتے 4 جوانوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملنے کے بعد جانی خیل تھانے کے باہر لواحقین کا انصاف کیلئے دھرنا اور احتجاج جاری تھا۔

مقامی قبائلی افراد اور لواحقین نے لاشوں کے ہمراہ اسلام آباد کی طرف مارچ بھی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واقعہ کی اطلاع منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بھی معاملہ سلجھانے بنوں پہنچے۔

ایک ہفتے سے جاری احتجاج اور دھرنا آج بروز پیر 29 مارچ کو معاہدے پر دستخط کے بعد ختم کردیا گیا ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ معاملے کی صاف اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں گی اور ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، جب کہ چاروں شہدا کو شہدا پیکیج دیا جائے گا۔ معاہدے کی دیگر دفعات مندرجہ ذیل ہیں۔

حکومت علاقہ میں تمام مسلح گروپوں کا خاتمہ کرے گی۔

جانی خیل کے لاپتا آفراد کو تحقیقات 3 ماہ میں مکمل کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔

معمولی جرائم میں ملوث زیر حراست ملزمان کو رہا کیا جائے گا۔

لواحقین کو 25-25 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔

حکومت علاقہ میں ترقیاتی منصوبے شروع کرے گی۔

مظاہرے میں گرفتار مظاہرین کو رہا کیا جائے گا۔

علاقے کو ہر قسم کے مسلح گروپوں سے صاف کرایا جائے گا۔

لوگوں کے پاس موجود قانونی اسلحہ ضبط نہیں کیا جائے گا۔

امن کی بحالی کے دوران کسی گھر کو مسمار نہیں کیا جائے گا۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور صوبائی وزیر سماجی بہبود ہشام انعام اللہ کے جرگے کے ساتھ 18 گھنٹے تک مذاکرات جاری رہے۔ معاہدے طے پانے کے بعد مطاہرین پر امن طریقے سے منتشر ہوگئے۔ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات وزیراعلیٰ کی سربراہی میں کمشنر آفس بنوں کے جرگہ ہال میں ہوئے۔

صوبائی وزیر کامران بنگش نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ دھرنا ختم ہوا اور تمام شرکا کو واپس جانے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔ جس کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے معاہدے سے متعلق تفیصلات سے آگاہ کیا۔

کامران بنگش

پس منظر

ضلع بنوں صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کی سرحد پر واقع ہے۔ جانی خیل بنوں شہر سے کوئی 25 کلومیٹر دور واقع ہے اور اس کی سرحد شمالی وزیرستان سے بھی ملتی ہے۔

قتل کیے گئے  چاروں دوست 3 ہفتوں سے لاپتا تھے، تاہم تین ہفتوں بعد ان کی لاشیں کھیت کے قریب واقع قبرستان سے برآمد ہوئیں۔ چاروں لاشیں مسخ شدہ تھیں۔ جاں بحق بچوں کی عمریں 13 سال سے 17 سال کے درمیان تھیں۔

چاروں نوجوان آپس میں دوست اور رشتے دار تھے۔

بنوں: چار دوستوں کے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج

چاروں دوستوں کی لاشیں ملنے پر لواحقین اور علاقے کے لوگوں کی جانب سے شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تقریبا 10 ہزار کے قریب احتجاج میں شامل افراد نے لاشوں کے ہمراہ اسلام آباد جانے کا اعلان کیا۔ جس کے بعد پولیس نے بنوں کی مرکزی شاہراہ کو بلاک کرکے مظاہرین کو کئی گھنٹوں تک مارچ کرنے سے روکے رکھا تاہم بعد میں انہیں اپنے راستے پر جانے کی اجازت دی گئی۔

مظاہرین رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے بنوں شہر سے آگے نکل کر کوہاٹ روڈ تک پہنچے تھے۔

مظاہرین سے ہمدردی کیلئے ضلع کرک میں پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما قبائلی اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو حراست میں لیا، جو بنوں جا کر احتجاج میں شامل ہونا چاہتے تھے۔

پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو بھی کوہاٹ میں حراست میں لیا گیا تھا۔

JANI KHEL PROTEST

Tabool ads will show in this div