سیلیبرٹیزاورسیاسی شخصیات کی حسینہ معین سےجڑی یادیں

حسینہ معین 79سال کی عمرمیں انتقال کرگئیں

پاکستان کے صف اول کے پلے رائٹرز اورڈرامہ نگاروں میں سے ایک حسینہ معین آج 79 سال کی عمرمیں کراچی میں انتقال کرگئیں۔

حسینہ نے پاکستان کا پہلا اوریجنل اسکرپٹ ڈرامہ'' کرن کہانی '' لکھا تھا جو 1970 کی دہائی کے اوائل میں نشرہوا تھا۔ اس سے پہلے پی ٹی وی ڈراموں کے لئے ناول پر مبنی اسکرپٹس پر انحصارکرتا تھا۔ وہ پاکستان کی اب تک کی بہترین ڈرامہ نگار اور ڈرامہ نگار سمجھی جاتی ہیں۔

ان کے انتقال پرعام افراد کے علاہ ان کے ڈراموں سے جڑی شخصیات ، سیاستدانوں اور صحافیوں نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جذبات کا اظہار کیا۔

سینیٹر فیصل جاوید نے لکھا '' عظیم رائٹرحسینہ معین کے جانے کا سن کربہت دکھ ہوا، وہ میری والدہ کی پسندیدہ لکھاری تھیں۔

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی سیاستدان عندلیبب عباس نے لکھا '' ورلڈ کلاس اسٹوریز تخلیق کرنے والی حسینہ معین نہ رہیں''۔

اداکار عدنان صدیقی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ''آپ کا کام نسلوں کیلئے متاثرکن رہے گا ''۔

ثمینہ پیرزادہ نے اس خبر کو ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے کہا ''یہ یقین نہیں آ رہا کہ میں آئندہ آپ کی آواز نہیں سن سکوں گی''۔

صحافی امبررحیم شمسی نے کہا کہ حسینہ معین کی طرح شہری اور دیہاتی عورت کا مضبوط تصور اور کوئی نہیں پیش کرسکتا۔

پی پی سینیٹرمرتضیٰ وہاب نے یادیں تازہ کرتے ہوئے لکھا '' ان کے لکھے ان کہی، دھوب کنارے، تنہائیاں اور انکل عرفی جیسے ڈرامے دیکھتے ہوئے بڑا ہوا''۔

پرفارمنگ آرٹس میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں 1987 میں حسینہ معین کو پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ 1975 میں انہوں نے ٹوکیو میں ہونے والے گلوبل ٹی وی پلے فیسٹول میں ڈرامہ ''گڑیا'' کے لئے بہترین اسکرپٹ اور ہدایتکاری کا ایوارڈ جیتا۔

HASEENA MOIN

Tabool ads will show in this div