پی اے ایف میوزیم کی تصویری سیر

جنگوں میں استعمال ہونے والاسازوسامان دیکھیے

کراچی کی مشہورومعروف شارع فیصل پر واقع پاک فضائیہ کا میوزیم ان تفریحی مقامات میں سے ایک ہے جہاں لوگ اپنے کنبے کے ساتھ ماضی کوزندہ کرنے جاسکتے ہیں۔

اس تاریخی میوزیم کا افتتاح 14 اگست 1997 کوکیا گیا تھا جہاں 30 ​​سے ​​زائد ہوائی جہاز ، تربیتی جیٹ ، ریڈاراور دفاعی سامان مائش کے لئے پیش کیا گیا ہے۔

میوزیم کے اوقات کار صبح 9 بجے سے شام 8 بجے تک ہیں، احاطے میں داخل ہوتے ہی آپ کی نظر ایف -86 ماڈل پر جاتی ہیں۔ پھر ٹکٹ کاؤنٹر ہے جہاں مناسب نرخوں پر دستیاب ٹکٹ سے آپ اندر داخل ہوسکتے ہیں۔ ٹکٹ کی قیمت 40 سے 60 روپے تک ہے جبکہ 3 سال سے کم عمر بچوں کا داخلہ مفت ہے۔

چند طیاروں کے بارے میں جانیے۔

ایف - 86 صابر

یہ پہلا طیارہ ہے جسے آپ میوزیم میں دیکھتے ہیں۔ یہ بھارت کیخلاف 1965 اور 1971 کی جنگ میں موثر انداز میں استعمال ہوا۔ سابق اسکواڈرن رہنما ایم ایم عالم نے اسی طیارے میں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ہندوستانی فضائیہ کے 5 طیارے مار گرائے تھے۔ طیارے کو 1980 میں گراونڈ کردیا گیا۔

ایف 104 اسٹارفائٹر

پاک فضائیہ کو 1961 میں ملنے والا سپرسونک جیٹ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں استعمال ہوا۔ اس میں ہر موسم میں اڑنے کی صلاحیت موجود تھی۔ 1965 کی جنگ کے دوران اسی طیارے سے ہندوستانی جی این اے ٹی طیارہ گرایا گیا تھا۔ فضائیہ نے 1973 میں اس کا استعمال بند کردیا۔

ٹی - 33

ٹی برڈ کے نام سے موسوم اس ٹرینر طیارے میں جنگی طیاروں کی صلاحیت موجود تھی۔ 1955 میں جنگی بیڑے میں شامل کیا جانےوالا یہ طیارہ فضائی فوٹو گرافی کے لئے بھی استعمال ہوا۔ یہ وہ طیارہ ہے جس میں نشان حیدر وصول کنندہ پائلٹ آفیسر راشد منہاس نے اڑان بھری تھی۔

ایچ- 34 بی ہسکی

10 نشستوں کے ساتھ منفرد شکل کا حامل یہ کثیرالستعمال ہیلی کاپٹرفائر فائٹنگ اور ایئر ایمبولینس سروس کے ساتھ ساتھ سرچ اور ریسکیو آپریشن کے لیے بھی استعمال کیا گیا، 1983 میں اس کا استعمال بند کردیا گیا تھا۔

ایف۔6

یہ روس کے مِگ 19 طیارے کا چینی ورژن ہے جسے 1965 کی جنگ کے بعد فورس میں شامل کیا گیا تھا۔ فضائیہ نے جنگی طیاروں کے تقاضوں کے تحت اس میں کئی ترامیم کیں ۔ اس نے 1971 کی جنگ کے دوران 8 بھارتی طیاروں کوگرایا اور2 کو نقصان پہنچایا تھا۔ ایف-6 نے سال 2002 میں اپنی آخری پرواز کی تھی۔

میراج

پاکستان نے 1967 میں اس فرانسیسی لڑاکا بمبارطیارے کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ 1971 کی جنگ میں اس طیارے نے شاندار کامیابیاں حاصل کیں، جنگ کے دوران ایک بھی میراج طیارہ تباہ نہیں ہوا بلکہ یہ اس وقت کے تکنیکی لحاظ سے جدید ترین ہندوستانی کینبرا ائرکرافٹ کو تباہ کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

مگ- 21 بائسن

مگ 21 بیسن روس کا لڑاکا طیارہ تھا جس نے افغانستان روس تنازع کے دوران پشاورمیں لینڈ کیا تھا۔

بی 57

یہ امریکی بمبار طیارہ 1959 میں حاصل کیا گیا تھا، 1988 میں ریٹائر ہونے سے پہلے یہ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں استعمال ہوا۔

میوزیم میں دفاعی سازوسامان اور راکٹوں کے ساتھ بڑی تعداد میں غیر جنگی اور تربیتی طیارے بھی نمائش کےلیے رکھے گئے ہیں ۔

ایک پوری آرکائیو گیلری پی اے ایف کی تاریخ بیان کرتی تصویروں کے لئے وقف ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کے ذاتی طیارے وائے کنگ کے ساتھ ایک مقبوضہ بھارتی جے این اے ٹی بھی توجہ کا مرکزہے۔

میوزیم میں ''آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ'' گیلری بھی ہے جس میں 27 فروری 2019 کو فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان کی جانب سے گرائے جانے والے 2 بھارتی جنگی طیاروں میں سے ایک مِگ21 کے زندہ بچ جانے والے پائلٹ ابھی نندن کا سامان اور طیارے کی باقیات رکھی گئی ہیں۔ ابھی نندن کو 2 روز بعد وزیراعظم عمران خان کے احکامات پررہا کردیا گیا تھا۔

پی اے ایف کی ویب سائٹ پر قائد اعظم کے ائرکرافٹ اورآپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کا ورچوئل ٹور بھی کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ میوزیم میں ایک سووینیئرشاپ بھی ہے جہاں سے جیٹ فائٹرزکے ماڈل ، مگ اور دیگراشیاء دستیاب ہیں۔

میوزیم میں عوام کیلئے ایک کینٹین اور تفریحی پارک بھی موجود ہے۔

PAKISTAN AIR FORCE

PAF MUSEUM

Tabool ads will show in this div