بابراعظم کیخلاف پرچہ، ایف آئی اے قانونی کارروائی مکمل کرے ، عدالت

ایف آئی اے سائبر کرائم نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی

مقامی عدالت نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کیخلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے ایف آئی اے کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

جمعرات کو سیشن عدالت نےحامیزہ مختار کو واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہراساں کرنے پر بابر اعظم کیخلاف درخواست کی سماعت کی۔

ایڈیشنل سیشن جج نےحکم دیا ہےکہ حامیزہ مختار کوواٹس ایپ اورسوشل میڈیا کےذریعے ہراساں کرنےپر بابراعظم کیخلاف پرچہ درج کرنےکی درخواست پر ایف آئی اے قانونی کارروائی مکمل کرے۔

ایڈیشنل سیشن نے حامیزہ مختار کی درخواست پر تحریری حکم جاری کیا۔ ایف آئی اے سائبر کرائم نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔

ایف آئی اےرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حامیزہ مختار نے مزکورہ نمبروں کے خلاف دھمکانے بلیک میل کرنے نازیبا میسجز بھیجنے سے متعلق درخواست دی۔انکوائری کے دوران مدعیہ کو نوٹس جاری کیا اور بیان رکارڈ کیاگیا۔رجسٹرڈ نمبر کے مالکان کو نوٹسز جاری کرکے طلب کیا گیا۔نوٹسز میں الزام الہیان کو بیان رکارڈ کرنے موقف دینےکے لیے طلب کیا گیا اور اس سلسلے میں تین مرتبہ نوٹس جاری کئے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بابر اعظم بھی انکوائری میں شامل نہیں ہوئے اوربابراعظم کی جگہ اس کا بھائی فیصل اعظم پیش ہوا اور بابر کے پیش ہونے کی مہلت طلب کی گئی۔

ایف آئی اے رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بابر اعظم اب تک انکوائری میں شامل نہیں ہوئےاوربیان بھی ریکارڈ نہیں کروایا ہےاوروہ اس معاملے میں  قصور وار پائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سلیمی بی بی نے3 نوٹسزوصول کرنے کے باوجود اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروایا۔مریم احمد انکوائری میں شامل ہیں لیکن مدعیہ کو پہچاننے سے انکار کردیا۔مریم احمد نے اپنے نمبر سے مدعیہ کو  نازیبا میسجز کرنے سے انکاری کا بیان دیا اور جب مریم احمد کو اس کا موبائل فرانزک کیلئے جمع کرانے کا کہا گیا تو اس نے موبائل فون نہیں دیا۔

Tabool ads will show in this div