کیا سکھر کے گاؤں میں چیتا گھس آیا تھا؟

صوبے میں کتنے جنگلی جانور ہے،اس کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں
مارے جانے والے کستوری بلے کی ایک جھلک
مارے جانے والے کستوری بلے کی ایک جھلک
مارے جانے والے کستوری بلے کی ایک جھلک
مارے جانے والے کستوری بلے کی ایک جھلک
مارے جانے والے کستوری بلے کی ایک جھلک
مارے جانے والے کستوری بلے کی ایک جھلک
[caption id="attachment_2222019" align="alignright" width="876"] مارے جانے والے کستوری بلے کی ایک جھلک[/caption]

سندھ کے علاقے روہڑی کے ایک گاؤں میں لوگوں نے ایک کستوری بلے کو چیتا سمجھ کر ہلاک کردیا اور اس انتہائی اقدام کی وجہ یہ غلط فہمی بھی رہی کہ وہ جانور ان کی بکریاں کھا رہا ہے۔

گاؤں والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ جنگلی جانور کچھ عرصے سے ان کے علاقے میں دہشت پھیلا رہا تھا اور انہیں یہ خدشہ تھا کہ ان کے مویشیوں کو ہڑپ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ انسانوں پر بھی حملے نہ شروع کردے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران وہ جانور ان کی 10 سے زائد بکریاں کھا چکا تھا۔

اس گاؤں کے ایک مکین نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے علاقے میں اکیلے پھرتے ہیں اور گاؤں  میں اس جنگلی جانور کی موجودگی کا علم ہونے کے بعد سے سب خصوصاً اپنے بچوں کے حوالے سے بیحد فکر مند تھے۔

[caption id="attachment_2222014" align="alignright" width="999"] مارے جانے والے کستوری بلے کی ایک جھلک[/caption]

گاؤں والوں نے بتایا کہ بالآخر گاؤں کے لوگوں نے موقع دیکھ کر 18 مارچ کی صبح جنگلی جانور کو مویشیوں کے ایک ریوڑ کے نزدیک گھیر کر ہلاک کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جانور علاقے میں خوف اور دہشت کی علامت بنا ہوا تھا اور لوگوں نے اکیلے گھر سے باہر نکلنا تک چھوڑ دیا تھا۔

سماء ڈیجیٹل نے اس حوالے سے جب محمکہ جنگلی حیات ) وائلڈ لائف ( سکھر سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ گاؤں والے اس سلسلے میں کئی غلط فہمیوں میں مبتلا تھے جس کے باعث ایک بے ضرر سا جانور مفت میں مارا گیا۔

ڈپٹی کنزرویٹر محکمہ جنگلی حیات عدنان حامد خان نے کہا کہ وہ کستوری بلا تھا نہ کہ کوئی چیتا اور گاؤں والوں کا یہ خیال غلط ہے کہ اسی نے ان کی بکریاں کھائیں۔

عدنان حامد نے بتایا کہ کستوری بلا انسانوں اور مویشیوں کے لیے خطرناک نہیں بلکہ یہ مچھلیوں کا شکار کرتا ہے اس وجہ سے اسے فشنگ کیٹ بھی کہا جاتا ہے۔

ڈپٹی کنزرویٹر کا کہنا تھا کہ انسان اور جانوروں کے درمیان ٹکراؤ خاصی حد تک بڑھ چکا ہے تاہم اس کی وجہ یہ نہیں کہ جانور انسانی آبادی میں گھس آتے ہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ انسان ان کے علاقوں میں جا بسے ہیں۔

انسان اور جنگلی جانوروں کے ٹکراؤ میں اضافہ کیوں؟

جب عدنان حامد خان سے سوال کیا  گیا کہ کیا وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ایسے واقعات تواتر سے ہوئے ہیں تو اس پرانہوں نے بتایا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جانوروں کے انسانوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن صورت حال اس سے یکسر مختلف ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہ کہ مسئلہ یہ ہے کہ جنگلی حیات یا جانور آبادی میں نہیں آرہے بلکہ انسان جنگلی حیات اور جانوروں کی آبادی میں گھس کر بیٹھ گئے ہیں۔

اس عمل کی بنیادی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ساری بات اربن پلاننگ اور آبادی بڑھنے کے سبب ہے کیوں کہ لوگ گھروں کی تلاش میں اب جنگل ختم کرنے لگے ہیں۔

عدنان حامد نے بتایا کہ جس علاقے میں یہ واقعہ رونما ہوا ہے وہاں ایک کینال بہتی ہے جہاں مختلف انواع و اقسام کی جنگلی حیات موجود ہے حتیٰ کہ وہاں مگرمچھ کی بھی بہتات ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال یہ مشہور ہوگیا تھا کہ اس علاقے میں مگرمچھ  نے بچی کو کھا لیا ہے لیکن حیقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ان علاقوں میں پائے جانے والے مگرمچھ اتنے بڑے ہوتے ہی نہیں کہ کسی بچی کو کھا سکیں اور بڑی عمر کے لوگ تو بہت دور کی بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مگرمچھ 8 سے 9 فٹ لمبے ہوتے ہیں اور یہ کسی بچی کو نہیں نگل سکتے لیکن لوگ بغیر تصدیق کے ایسی خبریں آگے بڑھا دیتے ہیں۔

کستوری بلوں کی بہتات

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کستوری بلے عام طور پر نارو کینال سکھر کے قریب موجود ہوتے ہیں جب کہ انہیں چوٹیاری ڈیم سانگھڑ میں بھی دیکھا گیا ہے۔ یہ عام طور پر انسانوں پر حملہ نہیں کرتے بلکہ الٹا انہیں دیکھ کر بھاگتے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ مچھلوں کا شکار کرکے کھاتے ہیں لیکن عین ممکن ہے کہ بڑے سائز کا کستوری بلا کسی مجبوری کی صورت میں کسی جانور پر حملہ کردے تاہم جس علاقے میں یہ واقعہ ہوا اس علاقے میں اسے پہلی بار دیکھا گیا تھا۔

کیا کستوری بلے کی ہلاکت پر مقدمہ ہوگا؟

سما ڈیجیٹل کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا مذکورہ کستوری بلے کی ہلاکت پر اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوگا ؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ سیلف ڈفینس یعنی اپنی جان کے دفاع میں جانور کو مارا جائے تو مقدمہ درج نہیں ہوتا ہے۔ سندھ وائلڈ لائف آرڈیننس 2020 کے سیکشن 41 کے تحت اس معاملے پر مقدمہ نہیں بنتا ہے۔

جنگلی جانوروں کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں

سماء ڈیجیٹل کے سوال کے جواب میں عدنان حامد نے بتایا کہ سندھ میں کستوری بلوں سمیت دیگر جنگی جانوروں کی تعداد سے متعلق صوبائی حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس ان کی بائیو ڈائیورسٹی کا بھی کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس تمام تر صورت حال کو دیکھ کر ہم محکمہ پاپولیشن اسٹیچر کا ایک محکمہ شروع کر رہے ہیں جو اس سال جون یا جولائی سے فعال ہو جائے گا تاہم اسے اپنا کام مکمل کرنے میں تقریباً 2 سے 3 سال کا عرصہ درکار ہوگا جو صوبے بھر کے علاقوں میں جنگی حیات سے متعلق سروے کرکے ڈیٹا مرتب کرے گا۔

SUKKUR

FISHING CAT

Tabool ads will show in this div