موٹروے ریپ کیس:فیصلہ 20 مارچ کو سنایا جائے گا

تھانہ گجرپورہ نےمقدمہ درج کیاگیا
Mar 18, 2021

Motorway case

انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت نےموٹروے خاتون ریپ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہےاور فیصلہ20 مارچ کو سنایا جائے گا۔ملزمان کے خلاف تھانہ گجر پورہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔عابد ملہی اور شفقت بگا کے خلاف 20 فروری کو چالان داخل کیا گیا جبکہ فرد جرم 3 مارچ کو عائد ہوئی۔عدالت نے کیس کی 7 سماعتیں کیں۔

انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ریپ کیس میں ملزمان کیخلاف کیس کا ٹرائل جیل میں کیا گیا۔عدالت نے وکلاءکےحتمی دلائل کےبعدفیصلہ محفوظ کیا۔ پراسکیوشن کےمطابق ملزمان کاڈی این اےجائےوقوعہ سےمیچ کرکےگرفتارکیاگیا اورملزم کومتاثرہ خاتون نےمجسٹریٹ کےسامنےشناخت کیا۔

وکیل صفائی قاسم آرائیں نے بتایا کہ سی ڈی آر کے مطابق ملزم شفقت کی موجودگی ظاہر نہیں ہوئی۔ملزم شفقت علی عرف بگا کی شناخت پریڈ گرفتاری کے22 دن بعد کروائی گئی جبکہ قانون ملزم کی شناخت پریڈ ایک ہفتے میں مکمل کرنے کی گنجائش دیتا ہے۔قاسم آرائیں کا کہنا تھا کہ ملزم شفقت علی سے دباﺅ کے تحت اقبال جرم کروایا گیا۔ملزم شفقت علی کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان قلمبند کروانے کیلئے فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا اورقبول جرم کا بیان قلمبند کرواتے ہوئے مقدمہ کا تفتیشی افسر بھی عدالت میں موجود تھا۔ وکیل صفائی کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو بیان قلمبند کرواتے ہوئے ملزم پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہونا چاہئے۔

موٹروے گینگ ریپ:ملزمان کےخلاف فرد جرم عائد

انھوں نے یہ بھی کہا کہ جیل میں شناخت پریڈ کے دوران اسی اہلکار کے ذریعے متاثرہ خاتون کو جیل کے اندر لایا گیا جو ملزم کو پہلے دیکھ چکا تھا۔ملزم کو پہلے سے دیکھنے والے اہلکار کے ذریعے متاثرہ خاتون کو شناخت پریڈ کی جگہ پر لانا شناخت پریڈ کی کارروائی کو مشکوک کرتا ہے۔انسداددہشت گردی عدالت کو شناخت پریڈ کا بھجوایا گیا ریکارڈ سربمہر نہیں تھا جبکہ ملزم عابد ملہی کی عمر دستاویزات میں 35 برس لکھی گئی جبکہ ملزم حقیقی عمر 20 برس ہے۔

پچھلےماہ عدالت کے روبرو جمع کرائے گئےچالان میں متاثرہ خاتون، مقدمے کے مدعی اور 15 پر کال کرنیوالے شخص سميت 40 گواہان کو شامل کیا گیا تاہم سانحے کے وقت موقع پر موجود 3 بچوں کو گواہوں کی لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔

ملزم شفقت عرف بگا نےجوڈیشل مجسٹریٹ رحمان الٰہی کے روبرو دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اقبال جرم کیا تھا۔دوسری جانب ملزم عابد ملہی نے تفتیشی افسر کے روبرو اعتراف جرم کیا اور دفعہ 161 کا بیان ریکارڈ کروایا، ملزم عابد ملہی نے خاتون کو 2 مرتبہ جبکہ شفقت نے ايک مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا۔چالان ميں کہا گيا ہے کہ ملزمان عابد ملہی اور شفقت کا ڈی این اے میچ کرچکا ہے۔

موٹروے ریپ کیس: 200صفحات پر مشتمل چالان عدالت میں جمع

موٹروے پرریپ کاواقعہ 9 ستمبر2020 کوپیش آیا تھا۔اس رات ایک خاتون اپنےکم سن بچوں کےساتھ لاہورسےبراستہ سیالکوٹ موٹروے گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ راستے میں گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا۔اس دوران 2 ملزمان آئےاورخاتون کوبچوں سمیت قریبی کھیتوں میں لے گئےجہاں ملزمان نے پہلے خاتون کو ریپ کا نشانہ بنایا اور قیمتی سامان بھی لوٹ کر فرار ہوگئے،جس میں 1لاکھ روپےنقدی، زیورات اور ڈیبٹ کارڈ و دیگر اہم اشیاء شامل تھیں۔

واقعے میں ملوث ایک ملزم شفقت عرف بگا نے خود ہی گرفتاری دیدی تھی جبکہ دوسرا ملزم عابد ملہی ایک ماہ تک روپوش رہا اور آخر کار فیصل آباد سے گرفتار ہوگیا تھا۔ان کےخلاف تھانہ گجرپورہ نےمقدمہ درج کیا۔

MOTORWAY RAPE CASE

Tabool ads will show in this div