ایم ایم عالم سے جڑی چند یادیں

ایوی ایشن تاریخ میں انکاکارنامہ رہتی دنیاتک یادرہیگا
بشکریہ نیوز پاکستان
بشکریہ نیوز پاکستان
فائل فوٹو
فائل فوٹو
بشکریہ نیوز پاکستان
بشکریہ نیوز پاکستان
بشکریہ نیوز پاکستان
بشکریہ نیوز پاکستان
ایوی ایشن تاریخ میں انکاکارنامہ رہتی دنیاتک یادرہیگا
ایوی ایشن تاریخ میں انکاکارنامہ رہتی دنیاتک یادرہیگا
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
????????????????????????????????????
????????????????????????????????????
بشکریہ نیوز پاکستان
بشکریہ نیوز پاکستان

میری محمد محمود عالم ( ایم ایم عالم ) سے پہلی ملاقات سال 2009 میں ہوئی تھی۔ ان دنوں وہ کراچی میں قیام پذیر تھے، کس کو معلوم تھا کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام بھی اسی شہر کے نام کریں گے۔ ان دنوں میں جس میڈیا ہاؤس سے وابستہ تھی ، اس کیلئے ایم ایم عالم پر رپورٹ بنانا میرے لیئے ان سے رابطے کا ذریعہ بنا۔

دس سوالات کا ایک صفحہ تیار کرکے جب ان سے بات چیت شروع کی تو وہ صحفہ سائیڈ میں ہی رہ گیا اور چائے سے شروع ہونے والی گفتگو اتنی دلچپسپ رہی کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا۔ ایم ایم عالم سے بات چیت کرتے ہوئے بالکل اس بات کا احساس نہ ہوا کہ میرے سامنے اتنا بڑا قومی ہیرو موجود ہے، جو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ دنیا بھر میں شاندار ریکارڈ بھی اپنے نام رکھتا  ہے۔ قصہ مختصر اور ہم اپنی گفتگو کو ختم کرکےروانہ ہوئے۔ مگر ان سے گاہے بگاہے ملنے ملنے اور گفتگو کا سلسلہ کسی نہ کسی موقع کے حوالے سے جاری رہا۔ایک بار ان کی سالگرہ پر اپنے کزن کے ہمراہ ان سے ملاقات کیلئے پہنچے۔ کزن نیا نیا پاس آؤٹ ہوکرکراچی آیا تھا اور اسے بھی ایم ایم عالم سے ملنے کا بہت شوق تھا، المختصر ہم ہادی کے ساتھ ایئر فورس بیس پہنچے۔ گیٹ پر شناخت کرائی اور اندر ملاقات کا بتایا۔ گارڈ کے ہمراہ ان کے کمرے تک آئے تو وہ بیٹھے کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے۔

جو لوگ ایم ایم عالم کو جانتے ہیں وہ بخوبی اس بات سے بھی واقف ہونگے کہ ان کے پاس دنیا بھر کی مشہور اور بہترین کتابوں کی کلیکشن موجود تھی۔

کچھ کتابیں ہمیں دکھاتے ہوئے انہوں نے 3 کتابیں میری جانب بڑھائیں اور تحفے میں دیں۔ اس اچانک تحفے پر میں حیران ہوئی اور شکریہ ادا کیا۔ ایک کتاب انہوں نے ہادی کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا کہ ینگ مین۔۔ تم نئے نئے آرمی میں آئےہو،تم ضرور یہ کتاب پڑھو۔ ہادی نے آگے بڑھ کر وہ کتاب ہاتھوں میں تھام لی۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہادی کو یہ تلقین بھی کی ہے کہ بیس کی لائبریری کی کتاب ہے، اور اسے ایک ہفتے میں واپس کرنی ہوگی۔ امید ہے کہ تم ایک ہفتے میں پڑھ کر اسے واپس کر دو گے۔

کچھ دیر گفتگو کا سلسلہ چلا اور ہم رخت سفر باندھ کر گھر لوٹ آئے۔ دو دن بعد ہادی نے بتایا کہ وہ کتاب کہیں مل نہیں رہی۔ ہفتہ یوں ہی اس کی تلاش میں گزر گیا۔ ایک ہفتے بعد ایم ایم عالم صاحب کی کال آئی کہ ینگ مین۔۔ کتاب آج واپس کرنی ہے تو لیتے آنا۔ ہادی کے پاس نہ کتاب تھی اور نہ کچھ کہنے کو کوئی جواب۔۔ مجھے ساتھ لے کر وہ ایم ایم عالم کے پاس پہنچا۔ میں نے ساری بات انہیں بتائی، جس پر انہیں افسوس بھی ہوا اور ایک ینگ آفیسر کی لاپرواہی پر حیرانگی بھی۔

ان سے ایک روز کا مزید وقت لیکر ہم سیدھے کینٹ پہنچے اور پورا گھر اوپر نیچے کردیا۔۔ پتا چلا وہ کتاب نانا کی کتابوں میں رکھی ہوئی تھی۔ اسی دن لنچ ٹائم میں بیس بھاگے اور انہیں کتاب معذرت کے نوٹ کے ساتھ واپسی کی۔

ایک دفعہ ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا، جس پر خاندان میں اب بھی قہقے بلند ہوتے ہیں۔ این سی بی جب کمرے میں چائے لایا تو میں نے کہا کہ ہم چائے آج خود بناٗئیں گے۔ یہ سنہرا مشورہ میرا نہیں بلکہ ساتھ موجود موصوف کا تھا، جو اس بات سے قطعی لاعلم کہ ہم کو چائے ہی بنانا نہیں آتی۔

تاہم تسلی اس بات کی تھی کہ ایم ایم عالم کو چائے پینی نہیں تھی، سو شرمندگی کے خیال سے ہماری سانس بحال رہی۔ جیسے تیسے کرکے الٹی سیدھی چائے ہم نے بنا ڈالی اورجس جس نے اس کو پیا وہ آج تک ہمیں یاد کرتا ہے، مگر اچھے الفاظ میں تو قطعاً نہیں۔

ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل جب وہ علیل ہوئے اور پی ایف بیس فیصل کے اسپتال میں زیر علاج تھے تو کچھ لوگوں کی جانب سے یہ افواہ اڑا دی گئی کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ یہ سنتے ہی میں نے ان کو فون کیا۔ ریسیور کے دوسری طرف ہیلو کی آواز سنتے ہی گویا جان میں جان آئی۔ ان سے سلام دعا کے بعد طبیعت اور خیریت کا دریافت کی اور ملنے کا وقت مانگا۔

اسی اثنا میں ہمارے ڈائریکٹر نیوز کا بھی حکم ہوا کہ کسی نہ کسی طرح انہیں ان ائیر لیا جائے یا کوئی ایسا ثبوت جس سے ہم دیکھنےوالوں کوبتاسکیں کہ وہ خیریت سے اورحیات ہیں۔بیورو چیف میرے پاس آئے اور کہا کہ وہ بھی میرے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔

ہم مقررہ وقت سے تقریبا آدھے گھنٹے پہلے وہاں پہنچے۔ بیورو چیف کو ساتھ لے جانا اور انٹری کرانا ایک الگ مرحلہ اور کہانی تھی۔ کیوں کہ اس وقت کسی میڈیا پرسن کو وہاں آنے اور ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔

مقررہ ٹائم پر اسپتال کے عملے نے ہمیں ان کے کمرے تک پہنچایا۔ جہاں وہ اپنے بستر پر موجود تھے۔ ہلکے نیلے رنگے کے قمیض شلوار میں وہ اس وقت بھی تازہ دم لگ رہے تھے، تاہم عمر کے ساتھ ساتھ کمزور سے بھی لگ رہے تھے۔ اس وقت انہیں فلو اور کھانسی بھی تھی۔

بستر کے ساتھ لگی میز پر انہوں نے دوائیاں گنوانا شروع کیں اور اپنی طبعیت سے متعلق بتاتے رہے۔ ہم نے تقریبا گھنٹہ دو گھنٹہ ان کے ساتھ گزارا اور واپس آکر اہلیان وطن کو ان کی خیریت سے آگاہ کیا۔ تاہم کچھ عرصے بعد ہی وہ ناساز طبیعت کے باعث 18 مارچ کو انتقال کرگئے۔ علی الصبح جب ان کے انتقال کی خبر فون پر موصول ہوئی تو سماعتوں کو یقین نہ آیا اور ضبط کیے گئے آنسو لڑی کی صورت میں بہہ نکلے۔

ایسی اور بہت سے یادیں جگہ کی کمی کے باعث یہاں شیئر کرنا ممکن نہیں تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک بہترین انسان بھی تھے۔ ایک ایسا عظیم ہیرو جس نے ایک منٹ میں دشمن کے 5 ہنٹر طیاروں کو نیست و نابود کیا، آج تک ایوی ایشن کی تاریخ میں ناقابل تسخیر کارنامہ ہے۔

میانوالی کا ایئر فورس بیس بھی اقبال کے اسی عظیم شاہین کے نام پر رکھا گیا ہے، صرف یہ ہی نہیں لاہور کی مشہور روڈ بھی ایم ایم عالم کے نام سے منسوب ہے۔

نوٹ: یہ تحریر گزشتہ سال لکھی گئی تھی، تاہم آج بروز جمعہ 18 مارچ کو ایم ایم عالم کے یوم وفات کے موقع پر دوبارہ شائع کی گئی ہے۔

M M ALAM

ایم ایم عالم

Tabool ads will show in this div