مولانافضل الرحمان نےعجلت میں مارچ ملتوی کیا، نثار کھوڑو

پیپلزپارٹی پہلے دن سے استعفوں کےحق میں نہیں

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کی نو جماعتیں اسمبلی سے استعفیٰ دینے پر بضد تھیں تاہم پیپلزپارٹی ایوان میں رہ کر حکومت سے لڑنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

سماء کے پروگرام 7سے 8 میں گفتگو کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ مسلم لیگ نون میں بھی ایک ایسا دھڑا تھا جو استعفیٰ دینے کے حق میں نہیں تھا، حکومت کے مخالف جب مارچ کی بات ہورہی تھی تب یہ شرط نہیں رکھی گئی تھی کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوکر احجتاج کرینگے۔ انہوں کہا کہ ہم سے کہا گیا تھا کہ اگر لانگ مارچ سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا تو استعفیٰ دے دینگے۔

نثار کھوڑو نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم مشترکہ تحریک کا نام ہے، جس میں 9 یا10 جماعتیں ضم نہیں ہوئیں، پی ڈی ایم میں شامل ہر جماعت اپنے منشور تحت چل رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو عجلت میں لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کا اعلان نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کی نو جماعتیں ایک پیج پر ہیں پیپلزپارٹی نے صرف تھوڑا ٹائم مانگا ہے، پی ڈی ایم سے علیحدگی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ وقت سے پہلے کی بات ہے تمام جماعتیں اپنا اپنا موقف اور سیاست پر نظر رکھتی ہیں۔ پی ڈی ایم اتحاد ہے جس کے تحت ہم جدوجہد کررہے ہیں۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان استعفوں کی شرط رکھ رہے ہیں تو پیپلزپارٹی کی جانب سے نواز شریف کی واپسی کی شرط پر کیا اعتراض ہے، زرداری صاحب تو کہہ رہے ہیں کہ ہم استعفی، احتجاج اور گولیاں ساتھ کھانے کے لیے تیار ہیں آپ بھی آجائیں۔

رہنماء پی پی پی نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے استعفیٰ مانگنے پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تھا لیکن ہم نے کوئی اعتراض نہیں کیا، پیپلزپارٹی نے اپنے تمام اسعتفیٰ اپنے صدر کو جمع کرادیے۔ لانگ مارچ میں عوامی دباؤ کی بات کی گئی تھی لیکن پی ڈی ایم اس سے پیچھے ہٹ گئی۔

MAULANA FAZL UR REHMAN

PDM

Tabool ads will show in this div