کراچی:لیاقت آباد میں کچرے کے ڈھیر،شہری پریشان

مکين اذيت ميں مبتلا
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/03/Liaqatabad-Kachra-KHI-PKG-12-03-REms.mp4"][/video]

پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے نام سے منسوب کراچی کے علاقے لیاقت آباد کو بلدیہ وسطی کی انتظامیہ کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔یہاں ہر طرف کچرے سے مکين اذيت ميں مبتلا ہيں۔

لیاقت آباد کا شمار کراچی کے پرانے علاقوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان بننے کےبعد سن 50 کی دہائی میں یہاں مکانات بننا شروع ہوئے اور ہجرت کرکے آنےوالوں کو یہاں رہائش دی گئی۔ وقت گزرتا گیا اور یہاں کی آبادی بڑھنے لگی۔

اس وقت یہاں لاکھوں افراد آباد ہیں لیکن یہاں کی سڑکيں کچرا دان کےمناظر پیش کررہی ہیں۔ بلدیہ کا عملہ اپنی ذمہ داری درست طریقےسےانجام نہیں دے رہا ہے اور شہریوں کا گھر سے نکلنا محال ہوگيا ہے۔

میونسپل کمشنر بلدیہ وسطی سیدعلی زیدی نےبتایا کہ بلدیہ وسطی کی انتظامیہ لیاقت آباد سے کچرا اٹھانے کیلئےروزانہ 400 لیٹراورمہینے کےدس ہزار چار سو لیٹر ڈیزل مشینری کو فراہم کرتی ہے۔لیاقت آباد سے کچرا اٹھانے کیلئے اتوار کو ہٹا کر چھبیس روز کام کیا جاتا ہے۔

لیاقت سندھی ہوٹل، ڈاکخانہ، نمبر چاراورنوکےاطراف کچرے کے ڈھیروں سے يہی لگتا ہے کہ بلدیہ وسطی کی انتظامیہ لاکھوں روپے مالیت کا ایندھن ضائع کررہی ہے اورمحکمہ سینیٹشن کی خراب کارکردگی بھی سامنے آرہی ہے۔

Tabool ads will show in this div