فیکٹ چیک: انصار عباسی اور عورت مارچ کیخلاف مہم

منتظمین کے خلاف تنقید کیوں غلط ہے

صحافی انصار عباسی نے گزشتہ دنوں ہونے والے عورت مارچ کے نعروں اور پلے کارڈ کے خلاف بدھ کی رات ٹوئٹر پر متعدد ٹوئٹس کیں تھیں، یہ ٹوئٹس اس وقت سامنے آئیں جب پہلے سے ہی سوشل میڈیا پرعورت مارچ کی منتظمین کے خلاف ایک مہم جاری تھی۔

انصار عباسی کی ٹوئٹ یہ تھی

انصار عباسی نے اپنی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’سوشل میڈیا میں عورت مارچ کے حوالے سے کچھ انتہائی خطرناک مواد سامنے آیا ہے، میری حکومت پاکستان اور سندھ گورنمنٹ سے درخواست کہ اس معاملہ کی تحقیق کی جائے اور اگر یہ سچ ہے تو ذمہ داروں کو فوری گرفتار کیا جائے‘۔

لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آخر خطرناک مواد کیا تھا تاہم انہوں نے نے چند ٹوئٹس کے حوالے سے کہا کہ مارچ میں توہین رسالت کی گئی ۔

ہم نے مارچ کے خلاف کچھ لوگوں کے دعووں پر فیکٹ چیک کیا تو انہیں غلط پایا ۔

شرکاء نے فرانسیسی پرچم نہیں لہرایا

کچھ لوگوں نے ٹوئٹر پر یہ دعوی کیا کہ عورت مارچ کے شرکاء نے فرانسیسی پرچم تھامے ہوئے تھے اورانہیں ’غیر ملکی ایجنڈا‘قرار دیا۔

فرانسیسی پرچم میں نیلے ، سفید اور سرخ رنگ کی پٹیاں ہیں جبکہ عورت مارچ کے شرکاء نے سرخ ، سفید اور جامنی رنگ کی پٹیوں پر مبنی جھنڈے اٹھا رکھے تھے جو ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کا پرچم ہے یہ تنظیم مختلف شہروں مارچ منعقد کراتی ہے۔

وہاں توہین رسالت نہیں کی گئی

بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے حوالے سے ایک پلے کارڈ کی ایک تصویر وائرل ہوئی لیکن کچھ ٹوئٹر صارفین نے اسے توہین آمیز قرار دیا۔تاہم عورت مارچ نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک پلے کارڈ تھا جسے لاہور کی ایک خاتون کی جانب سے لکھا گیا تھا جن کو 9 سال کی عمر میں 50 سالہ قاری کی صاحب کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ واقع پر خاتون خاموش رہیں لیکن قاری کی آواز ابھی تک آزان کی صورت میں سنائی دیتی ہے ۔

وہاں توہین آمیز نعرے نہیں تھے

ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں عورت مارچ کی شرکاء نعرے لگارہی ہیں لیکن ان اس ویڈیو کے سب ٹائٹلز غلط تھے ۔بعدازاں عورت مارچ کی انتظامیہ نے اصلی ویڈیو شیئر کی جس میں خواتین ظلم کرنے والی قوتوں سے آزادی مانگ رہی ہیں۔

غلط سب ٹائٹلز میں "انصار" اور "اوریا" کو کچھ اور سمجھ کر سب ٹائٹلز لکھا گیا۔ کیونکہ یہاں صحافی انصار عباسی اور کالم نویس اوریا مقبول جان کی بات ہورہی تھی جہیں اکثر ٹی وی شوز میں ان کے خیالات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن کی جانب سے ہر سال عورت مارچ پر تنقید کیا جاتا ہے اور الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کے منتظمین غیر ملکی اور اسلام مخالف ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔تاہم انہوں نے ابھی تک اپنے الزامات کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

انصار عباسی نے ٹویٹس پر مبنی الزامات عائد کرتے ہوئے عورت مارچ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن لاہور ہائیکورٹ نے پچھلے سال ٹھیک اسی طرح کی ایک درخواست کو خارج کردیا تھا۔

انصارعباسی نے حکومت اور ایف آئی اے سے مارچ کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا،جس پر ڈیجیٹل رائٹس اکسپرٹ فریحہ عزیز نے پوچھا کہ ایف آئی اے کو کسی چیز کی تحقیقات کے لئے وفاقی حکومت کو کس اختیار کا کہنا ہے۔

تنقید اور معافی مانگ کے لیے عورت مارچ کے مطالبے کے بعد انصار عباسی نے کہا کہ انہوں نے کوئی ’جعلی‘ اور ’گھناؤنا‘مواد شیئر نہیں کیا۔

اس حوالے سے سماجی رہنما جبران ناصر نے انصارعباسی سے ایک ٹوئٹ میں پوچھا کہ وہ غیر تصدیق شدہ ویڈیوز کس طرح شیئر کرسکتے ہیں جبکہ بصورت دیگر وہ تفتیشی صحافی ہونے کے ناطے’بند کمروں میں ہونے والی سرگوشیوں‘ کے بارے میں اطلاع دے سکتے ہیں۔

AURAT MARCH

Tabool ads will show in this div