بھارت: مدارس کےبچوں کو رامائن، گیتا پڑھانے کا فیصلہ

مسلمان دانشوروں کی شدید مذمت
Mar 08, 2021
فوٹو: انڈیا ٹوڈے
فوٹو: انڈیا ٹوڈے
[caption id="attachment_2211744" align="alignnone" width="800"] فوٹو: انڈیا ٹوڈے[/caption]

ہندوانتہاء پسند حکمران جماعت بی جے پی نے ہندو مذہب کی تعلیم حاصل کرنا مدارس کے طلبہ کیلیے اختیاری قرار دے دیا۔

 بھارتی وزارت تعلیم نے مدارس میں ہندوؤں کی مذہبی کتابیں رامائن اور گیتا کوبھی نصاب میں شامل کردیا ہے جس پر مسلم مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں نے سخت ردعمل دیا ہے۔

مسلم دانشوروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا یہ فیصلہ بھارت کو ہندوتوا کے سانچے میں ڈھالنے کے ایجنڈے کے حوالے سے متعدد دیگر حکومتی اقدامات کا حصہ ہے۔

بھارتی صحافی اور روزنامہ جدید خبر کے ایڈیٹر معصوم مراد آبادی نے ڈی ڈبلیواردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ’یوں تو بھارت کے تمام کلیدی شعبوں کو بھگوا رنگ میں رنگا جارہا ہے لیکن اس مشن میں تعلیم اور تدریس کے شعبوں کو خاص اہمیت دی جارہی ہے تاکہ طلباء کی ایک خاص نہج پر ذہن سازی کی جاسکے اور انہیں ہندوتوا میں ضم کیا جاسکے‘۔

بھارت کے مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال کا کہنا ہے کہ بھارتی ثقافت، ورثے، فلسفہ اور قدیم علوم کوجدید سیاق و سباق کے ساتھ نئی نسل تک پہنچانے کی این آئی او ایس کی یہ کوشش سنگ میل ثابت ہوگی۔ اس نصاب میں رامائن اور گیتا کو پڑھانے کے علاوہ ہندو طریقہ علاج پتنجلی، یوگا کی مشقیں، سوریہ نمسکار شامل ہیں جبکہ عملی مشق کے تحت گائے چَرانے، گؤ شالوں کی صفائی ستھرائی وغیرہ جیسی چیزیں شامل کی گئی ہیں۔

دوسری جانب این آئی او ایس کے چیئرمین سروج شرما نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بھارتی ثقافت کو نئی نسل تک پہنچانے کی کوششوں کے تحت اس نصاب کو فی الحال 100 مدرسوں میں شروع کیا جارہا ہے جن میں 50 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں اور مستقبل میں اسے مزید500 مدرسوں میں توسیع دی جائے گی۔

Madrassas

Indian govt

Tabool ads will show in this div