عورت مارچ: کیا خواتین کو حقوق ملنے لگے ہیں؟

ڈائریکٹر عورت فاؤنڈیشن ممتاز مغل کے جوابات
Mar 09, 2021
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/03/7-Say-8-Aurat-March.mp4"][/video]

ڈائریکٹر عورت فاؤنڈیشن ممتاز مغل کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 سالوں سے مسلسل عورت مارچ کا انعقاد کے باعث ملک میں خواتین کے حقوق ملنا شروع ہوئے ہیں جس میں خواتین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

سماء کے پروگرام 7سے 8 میں گفتگو کرتے ہوئے ممتاز مغل نے کہا کہ کرونا کی عالمی وبا کے دوران خواتین پر گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا، ملک میں خواتین کے حوالے سے قوانین تو موجود ہیں تاہم عملدرآمد نہ ہونے کے باعث اپنے مطالبات میڈیا، احتجاج اور اسمبلی میں اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ہماری فاؤنڈیشن خواتین کے حوالے سے پورا سال سیمنارز اور ریلیاں منعقد کرتے ہیں جبکہ کمیونیٹی لیول پر مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ریسرچ ورک کرکے خواتین کو اگاہی دیتے ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی رہنماء عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے جتنے قوانین ملک میں بنے ہیں وہ سب خواتین اراکین اسمبلی کے باعث بنے، آئین کے مطابق خواتین کو حقوق ملنے چاہییں۔

 عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میں عورت مارچ کی حامی ہوں تاہم گزشتہ سال اور اس سے اٹھائے گئے پلےکارڈرز بلکل نامناسب تھے، حقوق مانگنا کوئی برائی نہیں لیکن معاشرے کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔

women's day

AURAT MARCH

Aurat March 2021

Tabool ads will show in this div