حکومت نےجسٹس فائز کیس کو براہ راست نشرکرنیکی مخالفت کردی

براہ راست نشرکرنیکافیصلہ عدالت نے کرناہے
[caption id="attachment_1712167" align="alignright" width="826"] فائل فوٹو[/caption]

وفاقی حکومت نے نظرثانی کیس کی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی مخالفت کردی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ شُتر مرغ کی طرح گردن ریت میں دبا کر بیٹھے رہنے کا کیا فائدہ ؟۔ گوادر میں بیٹھا شخص عدالتی کارروائی دیکھنا چاہے تو کیسے روک سکتے ہیں؟۔

سپریم کورٹ میں 8 مارچ کو جسٹس فائز عیسی نظر ثانی درخواستوں پر کارروائی براہ راست دکھانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل کا آغاز کیا اور جسٹس فائز عیسی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیں۔ جس پر جسٹس منصور نے کہا کہ ہم گلوبل ویلج میں رہ رہے ہیں، دنیا کیساتھ چلنا ہوگا۔ گوادر میں بیٹھا شخص عدالتی کارروائی دیکھنا چاہے تو کیسے روک سکتے ہیں؟۔ وکیل یا جج کوئی بھی بدتمیزی کرے تو عوام کو معلوم ہونا چاہیے۔

ایڈینشل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ نظر ثانی کیس میں نہ تو 184/3 کی درخواست دائر ہو سکتی ہے اور نہ ہی براہ راست نشریات سمیت کوئی نیا مؤقف اپنایا جا سکتا ہے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ کیس میں جسٹس فائز عیسی کا انحصار غیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں پر ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالت میں اس وقت دس ججز ہیں چھ دیگر ججز موجود نہیں۔ باقی معزز ججز کو سنے بغیر کیسے براہ راست نشریات کا حکم دے دیں۔ دس ججز نے حکم دیا تو دیگر تمام ججز اسکے پابند ہوں گے۔ کیس کی مزید سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

SUPREME COURT OF PAKISTAN

FAEZ ISA

Tabool ads will show in this div