کالمز / بلاگ

آب حیات، حقیقت یا فسانہ؟

اس کےحصول کی کوشش اکثرانسانوں کی اولین ترجیح رہی
فوٹو: ٹوئٹڑ
فوٹو: ٹوئٹڑ
[caption id="attachment_2207929" align="alignnone" width="800"] فوٹو: ٹوئٹر[/caption]

انسان ابتدائے آفرینش سے ہی قوت، دولت، شہرت اور اقتدارکا متمنی رہا ہے ۔ دنیا میں ہو نے والی جنگوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کے پس پشت یہی عوامل کار فرما نظر آئیں گے۔ تاریخ میں ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جنہوں نے پوری نہیں تو آدھی دنیا پرحکومت ضرور کی ہے جن میں سکندر اعظم اور چنگیز خان کا نام سر فہرست ہے لیکن فاتح اعظم اور اس جیسی فکر کے حامل دیگر افراد ایک دن شاہانہ تخت وتاج اور حشمت و اجلال چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئے، لہٰذا فکر انسانی اس طرف مبذول ہوئی کی موت سے کس طرح چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

اس ضمن میں جہاں مختلف مذاہب و مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے علم ،عقیدےاور کشف و مجاہدے سے اس خواہش کی تکمیل میں جد وجہد کی وہاں آب حیات کا حصول بھی اولین ترجیح رہا۔ سوال یہ ہے کہ آب حیات محض ایک خیال یا فسانہ ہے یا اس کی کوئی حقیقت بھی ہے۔

آب حیات دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی آب بقاء، آب دوام یا امرت ہے ۔ آب حیات کے متعلق یہ خاصیت بیان کی جاتی ہے کہ جو اسے پئے گا یا اس میں غسل کرے گا اسے حیات دائمی اور بقائے دوام حاصل ہو جائے گا ۔آب حیات کا تصور بہت قدیم ہے، یہاں تک کہ یوحنا میں بھی اس کا ذکر کچھ اسطرح ملتا ہے ’پھر اسنے مجھے بلور کی طرح چمکتا ہوا آب حیات کا ایک دریا دکھایا جو خدا اور برہ کے تخت سے نکل کر اس شہر کے درمیان میں بہتا تھا اور دریا کے پار زندگی کا درخت تھا‘۔

علاوہ ازیں قبل از اسلام بھی فارسی ادب کی مختلف داستانوں میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان میں ایک داستان آشیل (اخیلس) کی ہے جس میں اس کی ماں اسے دریائے استائکس پر لے گئی جو زیر زمیں بہنے والا ایک دریا تھا تاکہ اسے ’روئیں تن‘ کرے اس کا مطلب ہے کہ جسم پر کسی قسم کا ہتھیا راثر نہ کرے۔

شاہنامہ فردوسی میں بھی اسفندیار کو ’روئیں تن‘ قرار دیتے ہوئے آشیل کا ذکر ملتاہے۔ بعد از احیاء اسلام بھی آب حیات کا ذکر موجود ہے۔ اس دور کی داستانوں میں تین اشخاص کا ذکر کیا گیا ہے جو آب حیات یا نہرحیات تک پہنچے ان میں حضرت خضرؑ، حضرت الیاسؑ اور حضرت ذوالقرنینؑ شامل ہیں۔ مذکورہ داستانوں کے بیان کے مطابق آب حیات حضرت خضرؑ اور حضرت الیاسؑ کو نصیب ہوا اور یوں وہ حیات دائمی کے حامل ہو گئے۔ یہ ایک ایسا مسٔلہ ہے جس کے بارے میں یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کہ آیا آب حیات کا کوئی وجود تھا، ہے یا نہیں اور حضرت خضرؑ سے اس کا کیا تعلق ہے۔ اس ضمن میں تفسیر داں ومحدثین مختلف آراء رکھتے ہیں، کچھ کے مطابق یہ روایت صحیح ہے کہ خضرؑ نےچشمہ حیوان یا نہر حیات سے پانی پیا اور وہ حیات ہیں جبکہ کچھ اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔ مشہورمولف و محقق ابن حجرعسقلانی نے اس پر ایک تحقیق ”الزھرالنضرفی حال الخضر‘‘کے نام سے تنصیف کی ہے جس کا اردو ترجمہ ’حیات حضرت خضرؑ‘ کے نام سے شائع ہؤا ہے۔جس میں وہ اس واقع سے گریزاں ہیں کہ حضرت خضرؑ حیات ہیں۔ ابن اسحاق کے بیان کے مطابق حضرت خضرؑ کو حضرت آدمؑ نے اپنی تدفین اور طوفان نوح کی خبر دی تھی اور وہ کشتی نوح میں سوار تھے۔ اسی طرح تفسیر خازن میں امام علاؤالدین علی بن محمد نے اور شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر اور الیاس جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں اور ہر سال زمانہ حج میں ملتے ہیں، اور یہ کہ حضرت خضر نے چشمہ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی بھی پیا تھا۔

اس بحث کو منظقی انجام تک پہنچانے کے لئے قرآن کریم کی سورۃ کہف سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورۃ کہف کی آیات 61 تا 66 میں ارشاد ہؤا ہے ’موسٰیؑ کو حکم ہؤا کہ ہمارا ایک بندہ ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ موسٰیؑ نے عرض کی ’’پروردگار میں اس تک کیسے پہنچوں‘‘ حکم ہؤا جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں۔ ساتھ ہی یہ حکم بھی ملا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی نمک آلودہ لے لیں، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں ہمارا وہ بندہ ملے گا‘۔ چنانچہ جب موسٰیؑ مجمع البحرین وہ جگہ جہاں بحیرۃ روم و فارس آپس میں ملتے  ہیں میں ’’نہر حیات‘‘ کے نزدیک پہنچے تو وہیں ایک چٹان کے قریب کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گئے، مچھلی آپکے ساتھی یوشع بن نون کی زنبیل میں تھی، پانی کے قطرے جیسے  ہی اس پر پڑے وہ بحکم خدا زندہ ہو کرپانی میں غوطہ زن ہو گئی اور ایک سوراخ کے ذریعے بشکل سرنگ پانی میں اترتی چلی گئی۔ جب حضرت موسٰیؑ یہاں سے روانہ ہو کر کچھ  دور گئے تو یوشع سے کہا ’مجھے بھوک لگی ہے، وہ مچھلی لے آؤ ’’یوشع نے کہا‘‘ وہ مچھلی تو جہاں ہم نے آرام کیا تھا وہیں عجب انداز سے جست لگا کر پانی میں غائب ہو گئی، اورآپ کو بتانا مجھے شیطان نے بُھلا دیا’’موسٰیؑ نے کہا ‘‘ پس واپس چلو اسی جگہ کی ہمیں تلاش تھی‘۔ جب آپ واپس لوٹے تو دیکھا کہ ایک بندہ خدا وہاں بیٹھا ہؤا ہے، آپؑ نے بعد از سلام کہا کہ میں موسٰی ہوں بنی اسرائیل کا نبی۔ یہی خدا کا نیک بندہ حضرت خضرؑ تھے۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد سوئم )۔ اس کے بعد کی تفصیل عام ہے کہ آپؑ نے حضرت خضرؑ کے ساتھ سفر کیا اور انہوں نے کہا کہ موسٰی جو عمل میں کروں آپ سوال نہیں کریں گے۔ ہم تفصیل میں نہیں جائیں گے کیونکہ اپنے قارئین کو بس یہیں تک لانا مقصود تھا۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ نہر حیات کے پانی میں خدا نے یہ تاثیر رکھی تھی کہ مردہ مچھلی پر اس پانی کے چھینٹے پڑنے سے وہ بحکم خدا زندہ ہو کر پانی میں غائب ہو گئی جبکہ حضرت خضرؑ تو مقیم وہیں تھے تو کیا آپ اس پانی سے مستفید نہیں ہوئے ہوں گے۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں، بیشک جو وہ چاہتا  ہےوہی ہوتا ہے۔

آب حیات اور حضرت خضرؑ کا واقعہ حضرت ذوالقرنینؑ سے بھی وابستہ ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنینؑ کے خالہ زاد بھائی، وزیراورعلمبردار رہے ہیں۔ یہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ مختلف تواریخ میں یہ بیان ملتا ہے کہ حضرت ذوالقرنینؑ نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوحؑ کی اولاد میں سے ایک شخص چشمہ حیات سے پانی پی لے گا تو اس کو موت نہ آئے گی۔ اس لئے حضرت ذوالقرنینؑ نے اس کی تلاش میں مغرب کا سفر کیا، حضرت ذوالقرنینؑ کے علم میں یہ بات آئی کہ چشمہ حیوان اندھیرے راستوں میں موجود ہے، جسے آج سائنس ’ بلیک ہول‘ کہتی ہے اور وہاں تین سو ساٹھ چشمے ہیں لہٰذا ذوالقرنینؑ نے اپنے لشکر سے تین سو ساٹھ افراد منتخب کئے اور ہر ایک کو ایک، ایک مچھلی دے کر خضرؑ کی سربراہی میں روانہ کیا ، تمام لوگوں کو یہ ہدایات دی گئیں کہ ہر فرد اپنی مچھلی کے ساتھ چشمے میں اتر جائے اور واپس آکر اپنی،اپنی مچھلی ظاہر کرے ۔ کافی دشواری و محنت شاقہ کے بعد آخر کار یہ افراد ان چشموں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب واپس آئے تو حضرت ذوالقرنینؑ نے کہا کہ سب اپنی مچھلی جمع کرادیں، چنانچہ سب نے اپنی مچھلی  ان کے سامنے پیش کردی سوائے حضرت خضرؑ کے۔ ذوالقرنینؑ نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا ’میں جب چشمے میں اترا تو مچھلی میرے ہاتھ سے نکل کر پانی میں چلی گئی، میں نے غوطہ لگا کر اسے پکڑنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا‘۔ حضرت ذوالقرنینؑ نے کہا کہ وہ پانی آپ کے مقدر میں تھا۔

تفسیر صاوی کے مطابق حضرت ذوالقرنینؑ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر کے مدتوں اُن کی صحبت میں رہے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ان کو کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔ تفسیر ابن کثیر میں بھی ازراقی کے حوالے سے یہ روایت ملتی ہے کہ ذوالقرنینؑ حضرت ابراہیؑم کے دور میں تھے اور انہوں نے ابراہیؑم کے ہمراہ خانہ کعبہ کا طواف بھی کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خضرؑ بھی ابراہیؑم کے دور کے ہیں جبکہ ایک محتاط اندازے کے تحت حضرت ابراہیؑم اور حضرت موسٰیؑ کے درمیان 600 سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے۔ ان تمام حوالہ جات سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ حضرت خضرؑکو یا توعمر طولانی دی گئی تھی یا پھر وہ بحکم خدا بقید حیات ہیں،واللہ اعلم۔

اس ضمن میں کچھ علماء، مفسرین اور مورخین کی مزید آراء پیش خدمت ہیں۔

امام بدر الدین عینی شارح بخاری نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ جمہور کا موقف یہ ہے کہ وہ نبی تھے اور زندہ ہیں۔ مصنف بدرالدین العینی” کتاب العلم،’باب ما ذکرفی ذہاب موسٰی‘ میں لکھتے ہیں کہ خدمت بحریعنی سمندر میں لوگوں کی رہنمائی کرنا انہیں کے یعنی خضرؑ سپرد  ہے‘‘۔

اسی طرح تفسیر خازن میں ہے کہ اکثر عُلَماء مشائخ کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضرؑ زندہ ہیں۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ یہ بھی اسی میں منقول ہے کہ حضرت خضر نے چشمہ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا۔

ایک روایت ہے کہ حضرت عمرؓ کسی کی نماز جنازہ پڑھانے والے تھے کہ ایک آواز سنائی دی ’ابھی ٹھہرجائیے‘ چنانچہ جب تک وہ آنے والا نہیں آیا آپؓ رکے رہے ۔ بعد میں جب لوگوں نے دریافت کیا آپؓ نے کہا کہ وہ حضرت خضرؑ تھے (تاریخ ابن کثیر جلد اول )۔ قارئین کرام! یہ ایک لامتناہی تحقیقی بحث ہے مگر بر بنائے طوالت ہم اسی پر اکتفا کرتے ہوئے آپ کو بھی دعوت فکر دیتے ہیں۔ واللہ اعلم باالصواب، اِنَّ اللہ علیم الخبیر۔

Myth

Tabool ads will show in this div