خلیل الرحمان قمرخاتون سماجی رہنما پربرس پڑے

سوشل میڈیاپرخلیل الرحمان کوتنقید کاسامنا
فائل فوٹو

گزشتہ سال صحافی اور تجزیہ نگار ماروی سرمد کے لیے نامناسب جملے استعمال کرنے والے خلیل الرحمان قمر ایک بار پھرتنقید کی زد میں ہیں۔

ڈراما رائٹروشاعرخلیل الرحمان قمرنجی ٹی وی لاہوررنگ پر شادیوں اور طلاق سے متعلق پروگرام شریک تھے، جہاں دوران پروگرام وہ سماجی رہنما ایلیا زہرہ پر برہمی دکھاتے ہوئے شوادھورا چھوڑکرچلے گئے۔ خواتین کے حقوق سے متعلق اس پروگرام میں سماجی رہنما ناہید بیگ بھی شریک تھیں۔

پروگرام کے آغاز میں میزبان نے واقعہ بیان کیا کہ دوران پروازایک دفعہ ان کی ملاقات ایک عمررسیدہ امریکی خاتون سے ہوئی تھی جنہوں نے 4 شادیاں کی تھیں۔ خلیل الرحمان قمر نے مذکورہ خاتون پرلعنت بھیجتے ہوئے اس معاملے کو پاکستان میں اجاگرکرنا غیرضروری قرار دیا۔

ایلیا زہرہ اور ناہید بیگ کا کہنا تھا کہ خواتین کیلئے طلاق لینے کے حوالے سے بہت سے مسائل ہیں اور انہیں بھی طلاق لینے اور دوسری شادی کا حق حاصل ہونا چاہیے، دونوں نے معاشرتی مسائل اجاگرکرتے ہوئے کہاکچھ گھرانوں میں خواتین بچے پیدا کرنے کی مشینیں ہوتی ہیں اور بیٹی کی پیدائش پربھی اسے تضحیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں خلیل الرحمٰن قمر نے وضاحت کی کہ خاتون کی4 شادیوں کیخلاف نہیں،اسلام اور قانون نے بھی خواتین کو یہ اجازت دی ہے تاہم مغربی اور مشرقی خواتین کا موازنہ کسی طورنہیں کیا جاسکتا۔ تاہم انہوں نے اس موضوع پر پروگرام کے میزبان کو بھی جھاڑ ڈالا کہ یہ بات قرآن میں ہے اور آپ اس موضوع کو چُن کرمذہب کیخلاف بات کررہے ہیں۔

اسی دوران ایلیا زہرہ نے کہا کہ کسی نے بھی مذہب کے خلاف بات نہیں کی جس پر خلیل الرحمٰن انتہائی سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے مائیک اتار کرشوچھوڑکرچلے گئے۔ قمر برہم ہوگئے اور انہوں نے نہ صرف پروگرام کے میزبان بلکہ مہمانوں کے خلاف بھی سخت لہجے میں بات کی اور مائیک اتار کر پروگرام کے درمیان سے اٹھ کر چلے گئے۔

بعد ازاں ایلیا نے اپنی ٹویٹ میں لکھا" ابھی زہریلی مردانگی کے ساتھ ایک خوفناک مقابلہ ہوا، خلیل الرحمان قمرایک ٹاک شو کے دوران آپے سے باہرہوگئے اور پوری قوت سے چیختے ہوئے شوچھوڑ کرچلےگئے۔ مجھے را کا ایجنٹ کہا''.

سوشل میڈیا صارفین نے بھی مصنف کے اس رویے کوانتہائی نامناسب قرار دیتے ہوئے ایلیا کی حمایت میں ٹویٹس کیں۔

خلیل الرحمان قمر کی جانب سے ایسے رویے کا مظاہرہ پہلی بارنہیں دیکھا گیا، گزشتہ سال مارچ میں عورت مارچ کے حوالے سے نیو نیوز کے ٹی وی شو میں انہوں نے اپنی بات کاٹے جانے پربرہم ہوکر سماجی رہنما ماروی سرمد کیلئے غیراخلاقی زبان کا استعمال کیا تھا جس پرماروی نے شوکے دوران ہی اپنے غم وغصے کے اظہار کیلئے '' میرا جسم میری مرضی '' کے نعرے لگائے تھے۔

عورت کو متعصبانہ حد تک منفی کردارمیں دکھانے والے ڈرامہ سیریل ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کے مصنف خلیل الرحمان قمر نے ڈرامے میں عورت کے منفی کردار سے وفا کے پیمانے مقررکرتے ہوئے اس کی اچھائی اور برائی کو وفا، حیا، صنفی برابری کے ترازو میں تولا تھا، ان کے نظریات نے ڈرامے کے آغازسے ہی ایک ایسی بحث کا آغاز کیا جواب رکتی نظر نہیں آتی۔

Marvi Sirmed

AURAT MARCH

KHALIL UR REHMAN QAMAR

Tabool ads will show in this div