لاہور:اسموگ سے شہری پریشان،بیشتر مانیٹرنگ اسٹیشنزبند

آلودگی کے لحاظ سےلاہورکئی بارپہلےنمبر پرآیا۔

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/02/Smog-Investigation-Lhr-Pkg-20-02.mp4"][/video]

لاہور کےشہری اسموگ کےباعث پریشان ہیں۔باغوں کا یہ شہرآلودگی کے لحاظ سےاوپری نمبروں پر ہے۔محکمہ ماحولیات کے8 میں سے5 مانیٹرنگ اسٹیشنز بند پڑے ہیں۔

یکم نومبر2017 میں اسموگ نےفضا کو پہلی بار آلودہ کیا۔گزشتہ2 سال سے آلودگی کے لحاظ سےلاہورکئی بارپہلےنمبر پرآیا۔

ایک تحقیق کےمطابق اسموگ کے اسباب میں گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کا حصہ 43 فیصد ہے۔فیکٹریوں سےنکلنےوالادھواں 20 فیصد،اینٹوں کے بھٹے15 فیصد،بھارت میں فصلوں کو جلانے سے 12 فیصد جبکہ پاکستان میں فصلوں کو جلانے سے 10 فیصد آلودگی پھیل رہی ہے۔

ترجمان محکمہ ماحولیات ساجدبشیرنےبتایا ہے کہ ائیرکوالٹی انڈیکس مانیٹرنگ اسٹیشن کا نظام بہت مہنگا ہوتاہے۔ايک سسٹم کو خراب ہونے سے بچانے کےلیے خود بند کيا گیا ہے۔واہگہ ٹاؤن میں موجوداسٹیشن کی ہارڈ ڈسک خراب ہوگئی ہے اور پاکستان میں دستیاب نہیں ہے۔

طبی ماہرین کےمطابق انسانی صحت کےلیےایئرکوالٹی انڈیکس 100 سےکم ہوناچاہیے۔اسموگ سے نمٹنے کےلئے حکومتی سطح پر کئی اجلاس منعقد کئےگئےہیں مگرمحکمہ ماحولیات اسے کنٹرول کرنے میں اس سال بھی ناکام رہاہے۔

SMOG

Tabool ads will show in this div