حلیم عادل شیخ کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

حلیم عادل کےکمرےسےسانپ نکلنےکا واقعہ

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/02/haleem-Adil-Sot-1.mp4"][/video]

پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ اور شریک ملزمان کو اے ٹی سی کلفٹن میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے تین مارچ تک ریمانڈ مانگا۔عدالت نےحلیم عادل شیخ اوردیگرکوعدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

جمعہ کوہونے والی پیش میں وکلا نےعدالت کوحلیم عادل کے کمرے سے سانپ نکلنے کے واقعہ سےمتعلق آگاہ کیا۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ وہاں سانپ کیا کررہا تھا۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ میرے کمرے میں منصوبےکےتحت کالا ناگ سانپ چھوڑا گیا۔مجھےقتل کرنے کی سازش ہورہی ہے اور بلاول بھٹونےمراد علی شاہ کے ذریعے مروانےکی کوشش کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈی ایس پی آفتاب عالم سانپ نکلنےکو گواہ ہیں اور انھیں سانپ دکھایا ہے۔

عدالت نےحلیم عادل کوکہا کہ آپ سیاسی بیانات باہرجاکردیں،یہاں ایسا نہ کریں۔آپ کوجیل بھیج رہے ہیں اور وہاں آپ محفوظ رہیں گے۔

حلیم عادل شیخ کا جسمانی ریمانڈ منظور

حلیم عادل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ سیاسی انتقام کا کیس ہےاوردہشت گردی کا نہیں۔حلیم عادل پر حملہ ہوا اور ان کی گاڑی پرفائرنگ ہوئی۔سیون اے ٹی اے کی دفعہ لگانا بدنیتی پرمبنی ہے۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے الیکشن کے عمل میں مداخلت کی ہے۔

اس کےعلاوہ حلیم عادل شیخ کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کرتےہوئے ملزمان کو 25 فروری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔درخواست ضمانت پر 22 فروری کو دلائل طلب کرلئے گئےہیں۔

رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ گرفتار

اس سےقبل عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتےہوئےپی ٹی آئی کےرکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے بتایا کہ حلیم عادل شیخ کی جان کو خطرہ ہے۔حلیم عادل شیخ کی فیملی،وزرا ،ایم این اے اور ایم پی ایز کوان سے ملنے نہیں دیاجارہا ہے۔یہ ایسا سلوک کررہے ہیں کہ جیسے دہشت گرد سے کیا جاتا ہے۔

کراچی میں پی ایس 88 میں منگل 16 فروری کو ضمنی الیکشن کے دوران ہنگامہ آرائی کے الزام میں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں پر4 مقدمات درج ہیں۔

HALEEM ADIL

Tabool ads will show in this div