رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ گرفتار

تحریک انصاف رہنماء کوملیرمیں پی پی کارکنوں نے گھیرلیا تھا

Haleem Adil

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/02/Haleem-Adil-Arest.mp4"][/video]

رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کو 2 پرانے مقدمات میں پولیس نے گرفتار کرلیا، پہلے انہیں گڈاپ تھانے اور اس کے بعد ایس آئی یو منتقل کردیا گیا۔ پی ٹی آئی رہنماء پر سپر ہائی وے پر احتجاج کے دوران سڑکیں بند کرنے پر گڈاپ تھانے میں 6 فروری کو ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی گاڑی پر ملیر کے علاقے میں فائرنگ کی گئی تاہم وہ محفوظ رہے تھے، ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ کے دوران پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کارکنان میں تصادم بھی ہوا، پی پی کارکنوں نے حلیم عادل شیخ کو گھیرے میں لے لیا تھا، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے انہیں بحفاظت علاقے سے نکالا اور ایس اییس پی آفس منتقل کیا تھا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے ایس ایس پی آفس میں موجود پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کو زبردستی سپر ہائی وے بند کرنے، ہنگامہ آرائی سمیت دیگر الزامات پر قائم 2 پرانے مقدمات میں باضابطہ گرفتار کرلیا۔

حلیم عادل شیخ کو ایس ایس پی آفس سے بکتر بند گاڑی کے ذریعے پہلے گڈاپ تھانے اور بعد ازاں ایس آئی یو (اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ) صدر منتقل کردیا گیا۔ ان پر گڈاپ تھانے میں ایک مقدمہ درج تھا، جس میں پی ٹی آئی رہنماء پر زبردستی سپر ہائی وے بلاک کرنے، ہنگامہ آرائی اور کار سرکار میں مداختلت کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔

تحريک انصاف کے رہنماء فیصل واؤڈا اراکین سندھ اسمبلی سعید آفریدی اور دعا بھٹو کے ساتھ ایس آئی یو پہنچ گئے، تاہم دونوں ایم پی ایز کو اندر جانے سے روک ديا گيا۔

سماء ٹی وی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کیخلاف پی ٹی آئی کارکنوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیدیا، پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی جبکہ وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے راستے بھی بند کردیئے گئے۔

اس سے قبل کراچی میں پی ایس 88 ملیر کی نشست پر ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ کے دوران پی ٹی آئی رہنماء حلیم عادل شیخ دورہ کرنے غلام حسین گوٹھ پولنگ اسٹیشن پہنچے جہاں ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔

حلیم عادل شیخ نے الزام لگایا کہ پیپلزپارٹی کے بدمعاشوں نے پولیس کی موجودگی میں فائرنگ کروائی لیکن گاڑی بلٹ پروف ہونے کی وجہ سے میں محفوظ رہا۔

گاڑی پر فائرنگ کے بعد تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کارکنوں کے درمیان جھگڑا ہوا اس دوران ہوائی فانرنگ بھی کی گئی۔

واقعے کے باعث ملیر کے مختلف پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ کا عمل روک دیا گیا جبکہ ڈپٹی کمشنر ملیر کی جانب سے ووٹنگ شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

پيپلزپارٹی کی جانب سے حليم عادل شيخ کے خلاف تحريری شکايت پر اليکشن کميشن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خط لکھا جس کے بعد پولیس نے پی ٹی آئی رہنماء کو باحفاظت حلقے سے باہر نکال دیا۔

ایس ایس پی ملیر خود گاڑی ڈرائیو کرکے حلیم عادل شیخ کو باہر لے گئے۔ پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد بھی گاڑی میں سوار ہوگئی جبکہ کچھ کارکنان گاڑی کی چھت پر بیٹھ گئے۔

صوبائی وزير سعيد غنی نے الزام لگایا کہ حلیم عادل شیخ اسلحہ کے زور پر ووٹرز کو ہراساں کر رہے ہيں۔

HALEEM ADIL SHEIKH

Tabool ads will show in this div