افغانستان سے نیٹو افواج نہیں نکالیں گے،اسٹولٹن برگ

طالبان امن معاہدے پر عمل کریں
اے ایف پی
اے ایف پی
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو

اتحادی افواج کے سربراہ جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ہم افغانستان سے فوجیں نہیں نکال رہے۔ صحیح وقت آنے پر افغانستان چھوڑ دیں گے۔

برسلز میں پریس کانفرنس سے خطاب میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ڈیڈ لائن سے آگے بھی افغانستان میں موجود فوجی دستے مزید قیام کریں گے۔ یہ وقت افغانستان سے اتحادی فوجیوں نکالنے کا نہیں ہے۔

اس موقع پر طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے اسٹولین کا کہنا تھا کہ طالبان کو 2020 کے امن معاہدے کیلئے ابھی بہت کام کرنا ہے، جب کہ امریکا نے اپنے بقیہ ڈھائی ہزار فوجیوں کو افغانستان سے نکالنے کا وعدہ کیا ہے۔

[caption id="attachment_2190329" align="alignright" width="900"] اے ایف پی[/caption]

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی اتحادی ضرورت سے زیادہ طویل عرصے تک افغانستان میں نہیں رہنا چاہتا، تاہم صحیح وقت آنے سے پہلے ہم افغانستان نہیں چھوڑیں گے۔ افغانستان سے متعلق کسی فوری فیصلے تک پہنچنا مشکل دکھائی دے رہا ہے، بائیڈن انتظامیہ اس معاملے میں آگے بڑھنے سے متعلق بغور جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن ( نیٹو ) افغانستان میں امن عمل کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ ہم جمعرات کو افغانستان اور عراق میں اپنے مشنز پر واپس راونہ ہوں گے، تاہم پائیدار سیاسی حل کیلئے یہ ہی بہترین موقع ہے، اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے پیش رفت تیز کرنی ہوگی۔

[caption id="attachment_2190314" align="alignright" width="900"] فائل فوٹو[/caption]

واضح رہے کہ سال 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے اور امریکی افواج کے آپریشن کے بعد اتحادی افواج تقریباً 20 برسوں سے افغانستان میں موجود ہیں۔ طالبان سے جنگ میں اب تک اتحادی افواج کے 2 ہزار 400 امریکی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں امریکا نے اپنے آخری ڈھائی ہزار فوجیوں کے انخلا کا بھی وعدہ کیا، جب کہ ایک سال قبل یہ تعداد 13 ہزار تھی۔

TALIBAN

NATO

Tabool ads will show in this div