علی سدپارہ کاٹرینر کےٹو سَر کرنے والا پہلا پاکستانی تھا

اشرف امان نے اپنے تاریخی سفر کی یادیں شیئر کیں

یہ 1977 کی بات ہے۔ کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی پر نکلے تین جاپانی اور ایک پاکستانی کوہ پیما خراب موسمی حالات اور آکسیجن کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہوکر رک گئے مگر ان میں سے ایک کوہ پیما حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے بدستور آگے بڑھتا رہا کیوں کہ اس کے اوپر دنیا کی دوسری بڑی چوٹی پر پاکستانی پرچم لہرانے کا جنون سوار تھا۔

اسی سال اشرف امان دنیا کی دوسری اونچی چوٹی ’کے ٹو‘ سر کرنے والا پہلا پاکستانی کوہ پیما بن گیا جبکہ ان کی ٹیم کو کے ٹو سر کرنے والی دنیا کی دوسری ٹیم کا اعزاز حاصل ہوا۔ جاپان نے اس خوشی میں ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان بھی کیا تھا۔

کے ٹو سر کرنے والے پاکستان کے پہلے کوہ پیما اشرف امان آج کل اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سماء ڈیجیٹل سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے ٹو کی چوٹی پر پہنچ کر میں نے سب سے پہلے بے ساختہ قومی ترانہ گنگنانا شروع کردیا تھا۔

دنیا کی دوسری بڑی چوٹی پر چڑھنا تو مشکل تھا ہی مگر اشرف اور ان کی ٹیم کیلئے واپسی کا سفر زیادہ کھٹن ثابت ہوا۔ ٹیم میں شامل دو افراد تیزی سے نیچے اتر رہے تھے۔ اچانک ان میں سے ایک ’باٹل نیک‘ پر ڈھیر ہوگیا۔ اشرف کا کہنا ہے کہ میں اسے اس حالت میں نہیں چھوڑ کر جا نہیں سکتا تھا کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ وہ زندہ نہیں بچ پائے گا۔

Ashraf Aman

اشرف امان اور جاپانی کوہ پیما 1977 میں کے 2 مہم کے دوران تصاویر کھنچواتے ہوئے۔ فوٹو: اشرف امان

پھر اشرف نے اسے اٹھایا اور رسیوں کی مدد سے خطرناک راستے سے نیچے لے آیا۔ جب وہ کیمپ پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ اس کیمپ میں دو افراد کے لئے جگہ ہی نہیں۔ اشرف نیچے دوسرے کیمپ کیلئے روانہ۔ اس دوران بہت اندھیرا تھا۔ مشکل سے کچھ نظر آتا تھا۔ بعض مقامات پر اشرف نے کیمپ لائٹ کا استعمال کیا مگر وہ بھی زیادہ دیر ساتھ نہ دے سکی۔ اشرف کا کہنا ہے کہ ’کسی طرح میں اپنا راستہ بنا پایا اور نچلے کیمپ پہنچ گیا۔

بیس کیمپ پہنچنے پر اشرف کو احساس ہوا کہ اس کے پنجے جل گئے ہیں۔ اشرف کا کہنا ہے کہ اس مہم سے پہلے دوست بتاتے رہے کہ برفباری میں جو بھی پہاڑوں پر چڑھتا ہے، اس کے پاؤں جل جاتے ہیں اور مجھے معلوم تھا کہ ایسا ہوگا کیوں کہ اس زمانے میں کوہ پیماؤں کے پاس تھرمل لباس اور مضبوط جوتے ودیگر جدید سامان نہیں ہوتا تھا۔ ان سب کے باوجود مجھے اوپر چڑھتے ہوئے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی کیوں کہ جب آپ پہاڑوں پر چڑھتے ہیں تو آپ کو ایک مختلف قسم کی توانائی ملتی ہے۔

ASHRAF AMAN

اشرف امان کی 1977 میں کے ٹو پر پاکستانی پرچم کے ساتھ تصویر۔ فوٹو: اشرف امان

کوہ پیمائی خون میں شامل ہے

اشرف امان جب میٹرک کے طالب علم تھے تو انہوں نے جرمن کوہ پیماؤں کے ہمراہ نانگا پربت پر سبز ہلالی پرچم لہرایا جس پر جرمن کوہ پیماؤں نے انہیں 'ہمالین ٹائیگر' کا خطاب دیا۔ اشرف کا کا کہنا ہے کہ ’میں جوان، متحرک اور کافی پھرتیلا تھا۔ اس لیے جرمن کوہ پیما مجھ سے کافی متاثر ہوئے۔‘

Ashraf Aman

اشرف امان کی 1977 میں کے ٹو بیس کیمپ پر تصویر۔ فوٹو: اشرف امان

پہاڑوں سے محبت اشرف کے خون میں شامل ہے۔ ان کے خاندان کے چھ افراد 1953 میں نانگا پربت کی پہلی کامیاب مہم جوئی کا حصہ تھے۔ اشرف امان کا خیال ہے کہ اس شوق کی وجہ یہ ہے کہ وہ علی آباد میں پیدا ہوئے جو سطح سمندر سے 2206 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ وہ قدرتی ماحول اور پہاڑوں کے درمیان سکون محسوس کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ بچپن میں اسکول جانے کے لئے تین دن پیدل سفر کرکے گلگت جایا کرتے تھے۔ گلگت کے مرکزی بازار میں پوسٹ آفس کے قریب گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر ایک واقع ہے۔ اشرف اس کے ہاسٹل میں رہتے اور ویک اینڈ پر پیدل علی آباد اپنے گھر چلے جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پہاڑوں کو اسلام میں بھی ایک خاص مقام حاصل ہے۔ حضور نبی اکرم (ص) جبل النور پر غار حرا میں مراقبہ کرتے اور حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر خدا سے ہم کلام ہوتے تھے۔

کوہ پیماؤں کی ٹریننگ

ہمالین ٹائیگر یعنی اشرف امان اپنا زیادہ تر وقت کوہ پیماؤں کو تربیت دینے اور پاکستانی چوٹیوں کو دیگر ممالک میں متعارف کروانے میں گزارتے ہیں۔ وہ اسلام آباد میں ایڈونچر ٹورز پاکستان کے نام سے ایک سیاحتی کمپنی چلاتے ہیں۔ وہ پورٹرز اور پروفیشنل اسسٹنٹس کو تربیت دینے کے لئے ایک تنظیم بھی چلا تے رہے۔ حال ہی میں کے ٹو پر لاپتہ ہونے والے محمد علی سدپارہ بھی ان کے طالب علم گزرے ہیں۔

اشرف امان کا کہنا ہے کہ مجھے برطانوی شہریت اور گرین کارڈ کی پیش کش بھی ہوئی لیکن میں پاکستان سے باہر رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ میرے والدین نے مجھے اپنی سرزمین سے محبت کرنا اور یہاں کے لوگوں کی خدمت کرنا سکھایا ہے۔ میری زندگی کا مشن صرف اتنا ہے کہ باہر ممالک سے کوہ پیما آئیں اور پاکستانی پہاڑوں کو ایکسپلور کریں۔

اشرف کو ماؤنٹ ایورسٹ کی مہم میں شامل ہونے کی بھی پیشکش کی گئی تھی۔ اس وقت تک کسی پاکستانی نے ماؤنٹ ایورسٹ سر نہیں کیا تھا لیکن وہ چاہتے تھے کہ اس کا پہلا کارنامہ پاکستان میں ہی رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے شہرت کی پرواہ نہیں کی۔ میں صرف ایک محب وطن شہری ہوں اور پہاڑوں پر چڑھنا میرا شوق ہے۔

Ashraf with Zia ul Haq
اشرف امان کی سابق صدر جنرل ضیاء الحق کیساتھ تصویر۔ فوٹو: اشرف خان

اشرف امان کا کہنا ہے کہ مجھے برطانوی شہریت اور گرین کارڈ کی پیش کش بھی ہوئی لیکن میں پاکستان سے باہر رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ میرے والدین نے مجھے اپنی سرزمین سے محبت کرنا اور یہاں کے لوگوں کی خدمت کرنا سکھایا ہے۔ میری زندگی کا مشن صرف اتنا ہے کہ باہر ممالک سے کوہ پیما آئیں اور پاکستانی پہاڑوں کو ایکسپلور کریں۔

اشرف کو ماؤنٹ ایورسٹ کی مہم میں شامل ہونے کی بھی پیشکش کی گئی تھی۔ اس وقت تک کسی پاکستانی نے ماؤنٹ ایورسٹ سر نہیں کیا تھا لیکن وہ چاہتے تھے کہ اس کا پہلا کارنامہ پاکستان میں ہی رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے شہرت کی پرواہ نہیں کی۔ میں صرف ایک محب وطن شہری ہوں اور پہاڑوں پر چڑھنا میرا شوق ہے۔

نوٹ: اس تحریر کے مترجم نور الہدیٰ شاھین ہیں۔

K2 SUMMIT WINTER

Tabool ads will show in this div