دہشتگردی کیخلاف کارروائیاں جاری رہے گی: امریکی، فرانسیسی صدر

obama-hollande

پیرس: فرانسیسی صدر کہتے ہیں کہ دہشت گرد خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں، ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ جبکہ امریکی صدر براک اوباما بولے مشکل کی اس گھڑی میں فرانسیسی عوام کے ساتھ ہیں۔

فرانس کے دارلحکومت شہر پیرس میں کل رات دہشتگردوں نے ایک زائد دھماکے کیے جس میں مرنے والوں کی تعداد اب تک 178 ہوگئی، جبکہ 200 سے زائد زخمی ہیں۔

فرانسيسي صدر اولاند نے واقعہ کے بعد ايمرجنسي نافذ کردي اورسرحدي علاقوں کوسيل کرنے کا اعلان کرديا، قوم سے خطاب ميں ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کر ديا ہے۔

فرانس ميں دہشتگرد کارروائي کو امريکي صدر اوباما نے ہولناک واقعہ قررار ديا۔ وائٹ ہاؤس ميں ہنگامي نيوز کانفرنس ميں صدر اوبامہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات سے خوفزدہ نہيں ہوں گے۔

مزید پڑھیے: فرانس دھماکے؛ ایمرجنسی نافذ، ہلاکتوں کی تعداد 178 ہوگئی

دوسری طرف امريکي وزيرخارجہ جان کيري نے حملے کو اشتعال انگيز قرار ديا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر آج فرانسيسي ہم منصب سے ملاقات کريں گے۔

اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل بانکي مون نے واقعہ کي شديد الفاظ ميں مذمت کي۔ انہوں نے ہدايت کي کہ تمام يرغماليوں کي فوري رہائي کوممکن بنائي جائے۔

نيٹو کے سيکريٹري جنرل جينزاسٹولٹن برگ نے کہا کہ دہشتگردي کے خلاف جنگ ميں نيٹو فرانس کے ساتھ کھڑي ہے۔

برطانوي وزيراعظم ڈيوڈ کيمرون نے اپنے ٹويٹر پيغام ميں کہا کہ واقعہ کا س کر انہيں صدمہ ہوا اور جومدد ممکن ہوسکي وہ فرانس کوديں گے۔

جرمن چانسلراينجلا مرکل نے کہا کہ ايسے وقت ميں وہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقين اور پيرس کےعوام کےساتھ ہيں۔

بھارتي وزيراعظم نريندرمودي نےٹويٹر پيغام ميں حادثے کو المناک واقعہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل کي اس گھڑي ميں فرانسيسي عوام کےساتھ ہيں۔ سعودي عرب، قطر، بيلجيم اور سيکورٹي کونسل نے واقعہ کي سخت الفاظ ميں مذمت کي ہے۔ سماء

British pm

WHITE HOUSE

NATO

john kerry

BAN KI MOON

WAR AGAINST TERRORISM

David Cameron

#ParisAttacks

Hollande

curfew in Peris

people killed

UN Secretary General

German chancellor

Tabool ads will show in this div