ویڈیو: پاکستانی شہری نے گاؤں میں ریلوے اسٹیشن بنادیا

پنڈ سلطانی ریلوے اسٹیشن پر بیٹھک اور لائبریری بھی ہے

پاکستان میں ايک پنڈ سلطانی ريلوے اسٹيشن بھی ہے جو شہریوں کی ملکیت ہے اور جہاں پلیٹ فارم پر نہ کوئی ٹرین سے اترتا ہے اور نہ ہی سوار ہوتا ہے بلکہ وہاں کوئی ریل گاڑی سرے سے موجود ہی نہیں اور نہ ہی وہاں سے گزرتی ہے۔

درحقیقت یہ اٹک کے ایک گاؤں میں شہریوں کی ایک بیٹھک ہے، جسے انہوں نے ہو بہو ریلوے اسٹیشن کی شکل دی ہے۔ وہاں ویسی ہی قدیم طرز کی شاندار عمارت، پلیٹ فارم اور پٹری بنائی گئی ہے۔ پٹری کے بیچ وہی مخصوص پتھر بچھایا گیا ہے جو ریلوے لائنز میں استعمال ہوتا ہے اور اسے کوہاٹ سے منگوایا گیا ہے۔

مقامی رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے ایک سافٹ ویئر انجينئر عتيق الرحمان نے ريلوے اسٹيشن کی ہو بہو نقل گاؤں کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر تیار کی ہے جس کیلئے 3 سال تک پيسے جوڑے گئے۔

یہاں آپ کو ملک کے ریلوے اسٹیشنوں کی طرز پر یا یوں کہیں کہ اصلی  اسٹیشنوں کی طرح اسٹیشن ماسٹر کا کمرہ، ٹکٹ گھر، ٹرینوں کی آمد و رفت کا شیڈول و دیگر لوازمات بھی ملیں گے جو ایک ریلوے اسٹیشن کا خاصہ ہوتے ہیں۔

تاہم یہاں کمی ہے تو بس ٹرین کی جس کیلئے عتیق الرحمان اور ان کے ساتھیوں کی خواہش ہے کہ پاکستان ریلوے انہیں ایک ناکارہ انجن فراہم کردے تاکہ وہ لوگ اسے رنگ و روغن کرکے وہاں سجا دیں۔

یہ جگہ پہلے تو صرف عتیق الرحمان اور ان کے دوستوں کی بیٹھک ہی تھی لیکن اب انہوں نے اسے عام لوگوں کیلئے بھی کھول دیا ہے تاکہ وہ وہاں آئیں اور اس پُرفضاء مقام پر جاذب نظر عمارت اور گرد ونواح سے لطف اندوز ہوں۔ یوں کہیں تو بیجا نہ ہوگا کہ وہ جگہ نزدیکی علاقوں کے افراد کیلئے ایک باقاعدہ تفریحی مقام بھی بن چکی ہے۔

یہاں آنے والے ہر ایک سیاح کو عتیق الرحمان اور ان کے دوستوں کی جانب سے رضاکارانہ طور پر ريلوے کی تاريخ اور متعلقہ مفید معلومات سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔

عتیق الرحمان اپنے گاؤں اور اس کے لوگوں کی ترقی کے جذبے سے سرشار ہیں۔ اُنہیں اُمید ہے کہ وہاں قائم چھوٹی سی عمارت ایک نہ ایک دن علاقے کی ترقی کیلئے راستہ کھولے گی۔

PIND SULTANI

Tabool ads will show in this div