امریکا نے دو عرب ممالک کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی

ڈیل پر دوبارہ نظرثانی کی جائیگی
فوٹو: ٹوئٹر
فوٹو: ٹوئٹر
فوٹو: ٹوئٹر

امریکی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ جوبائیڈن انظامیہ کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیار اور یو اے ای کو ایف 35 جنگی جہازوں کی فروخت عارضی طور پر روک دی۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلحے کی فروخت سے متعلق اربوں ڈالر کی ادائیگیوں کے معاملے پر نظرثانی کی جائیگی۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے معاہدے کا ایک حصہ ہے۔

دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پیکج منجمد کرنے کا مقصد نئی انظامیہ کی ڈیل کا ازسرنو جائزہ لینے کا موقع فراہم کرنا ہے اور یہ معمول کی انظامی کارروائی ہے جو شفافیت اور اچھی حکمرانی کے لیے انتظامیہ کی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اگست میں اسرائیلی انٹیلی جنس وزیر ایلی کوہن کا ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ یو اے ای کو ہتھیار فروخت کرنے کے حوالے سے ایسی کوئی بات زیرغور نہیں۔

ایلی کوہن نے اعتراف کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی ملک کو ہتھیار فروخت نہ کرنے اور خطے میں اپنی فوجی طاقت کو برقرار رکھنے کا دباؤ ہے۔

اسرائیلی وزیر نے کہا کہ میرے عہدے پر ہوتے ہوئے ایسی کوئی شق نہیں کہ ہم متحدہ عرب امارات کو ففتھ جنریشن ایف -35 طیارے دیں گے۔

بعدازاں امریکا نے گزشتہ سال نومبر میں ہی متحدہ عرب امارات کو 23ارب 37 کروڑ ڈالر مالیت کے جدید دفاعی آلات اورایف 35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ برس ستمبر میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ امریکا سے ایف 35 لڑاکا طیارہ خریدنا چاہتا ہے۔

JOE BIDEN

UNITED ARAB EMIRATES

Tabool ads will show in this div