کسانوں کی احتجاجی تحریک بغاوت میں بدل سکتی ہے، رپورٹ

مودی کی پالیسیوں سے اقلیتیں پریشان ہیں
فوٹو: ٹوئٹر
فوٹو: ٹوئٹر
فوٹو: ٹوئٹر

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں کسانوں کی احتجاجی تحریک بغاوت کی شکل اختیار کرکے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

یوم جمہوریہ کے موقعے پر کسانوں کی احتجاجی ریلی کے بعد دہلی کے لال قلعے پر دھاوا بول کر سکھ مذہب اور کسان تحریک کے جھنڈے لہرانے کے واقعات نے پوری دنیا میں مودی سرکار کی تباہ کُن پالیسیوں کی جانب متوجہ کرلیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں دوبارہ مودی سرکار آنے کے بعد بھارت میں داخلی بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے پہلے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا کا یک طرفہ اقدام اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی نے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر مسائل سے دو چار کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال فاشسٹ مودی حکومت نے شہریت کا متنازع قانون بنایا جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس قانون کے خلاف بھی بھارت میں احتجاجی لہر پیدا ہوئی اور دہلی کے شاہین باغ میں طویل عرصے تک مسلمان مردوخواتین کا دھرنا جاری رہا۔

دوسری جانب مودی حکومے کی کرونا وائرس سے بچاؤ کی تمام تبدیریں ناکام ثابت ہوئیں جبکہ متنازع زرعی قوانین کی منظوری کے بعد بھارت میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

Narendar Modi

Farmers Protest

Tabool ads will show in this div