لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر بلوچ چوتھے مقدمہ میں بری

استغاثہ ثبوت پیش نہ کرسکی

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ اور لیاری گینگ کر کے سرغنہ عزیر بلوچ کو ہڑتال کے دوران جلاؤ گھیراؤ کے مقدمہ سے بری کردیا۔ اس سے قبل سول عدالتوں سے بھی عزیر بلوچ 3 مقدمات میں بری ہوچکے ہیں۔

عزیر بلوچ کے خلاف دہشت گردی کے 50 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ انہیں بدھ کو ہڑتال کے دوران توڑ پھوڑ، جلاؤ گیراؤ اور ہنگامی کے کیس میں عدالت لایا گیا تو وہ ہشاش بشاش لگ رہے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے 24 اپریل 2012 کو ہڑتال کے دوران بغدادی کے علاقے میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراو کیا تھا مگر عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوشن عزیر بلوچ کے خلاف ثبوت ہی پیش نہ کرسکی جس پر انسداد دہشت گردی عدالت نے عزیر بلوچ اور امین بلیدی کو بری کردیا۔

عدالت نے اسی کیس میں مفرور ملزم حبیب جان سمیت سات ملزمان کے تاحیات وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے ہیں۔ حبیب جان بیرون ملک ہوتے ہیں۔

اس سے قبل عزیر بلوچ سیشن عدالت کے تین مقدمات میں بری ہوچکا ہے۔ لیاری گینگسٹر کے خلاف مختلف عدالتوں میں 55 سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔

lyari gang war

Tabool ads will show in this div