اسکردو: لاپتا امریکی کوہ پیما کی لاش مل گئی

لاش کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالا جائیگا
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو

کے ٹو سر کرنے کے دوران لاپتا ہونے والے امریکی کوہ پیما ایلکس گولڈ فرب کی لاش کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ لاش آج بلندی سے اتاری جائے گی۔

امریکی کوہ پیما بلندی سے مانوس تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے پاستور پر سفر کیا، تاہم وہ پاستور پیک کی کوہ پیمائی کے دوران گر گئے تھے۔ ان کی لاش 6 ہزار 209 میٹر کی بلندی پر ملی ہے۔ ان کی لاش کو آج بلندی سے اتارنے کی کوشش کی جائے گی۔

حکام کے مطابق لاپتا کوہ پیما کی لاش کی نشاندہی 6209 میٹر کی بلندی پر کی گئی ہے، جسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے تلاش کیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہفتے میں اب تک 2 غیرملکی کوہ پیما ہلاک ہوئے ہیں۔

رواں ہفتے ایک نیپالی کوہ پیما سر پر چوٹ لگنے سے شدید زخمی ہوا تھا، جب کہ 3غیر ملکی کوہ پیما شدید بیمار ہونے کے باعث واپس جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ 16 جنوری کو نیپالی کوہ پیماؤں کی ٹیم نے دنیا کی دوسری سب سے بلند چوٹی سردیوں میں پہلی بار سر کی، جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ تین مختلف ٹیموں سے تعلق رکھنے والے 10 نیپالی کوہ پیماؤں نے اتوار ایک بجے اپنے سفر شروع کیا اور شام تقریباً 5 بجے وہ 8611 میٹر کی بلندی پر واقع کے ٹو کی چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

سیون سمٹ ٹریکس، جن کے ایک سونا شرپا نامی کوہ پیما بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں، نے اس موقع پر ٹویٹ کر کے اس کارنامے کی تصدیق کی۔ دوسری جانب الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اسپین سے تعلق رکھنے والے سیون سمٹ ٹریکس کے معاون لیڈر سرگئے منگوٹ وہ کیمپ ون سے بیس کیمپ کی جانب آتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے۔

کے ٹو کہاں ہے ؟

قراقرم کے انتہائی شمالی کنارے پر پاکستان اور چین کے سرحدی مقام پر واقع ہے اور درحقیقت اس مقام پر کوئی واضح سرحدی تعین نہ ہونے کی بنا پر پاکستان اور چین کے درمیان کے ۔ ٹو کو ہی سرحد مانا جاتا تھا۔

اسکردو سے تقریباً 125 میل دو سو کلومیٹر یا 104 کلومیٹر فضائی سفر کی دوری پر واقع ہے۔ اس کا طول بلد 35.52 اور عرض بلند 76.30 ہے۔

کے ٹو کا راستہ اسکردو شہر سے ہوتا ہوا شگر وادی کے اندر سے گزرتا ہے اور آخری گاؤں اشکولی میں سڑک کا اختتام ہوتا ہے، جہاں سے پیدل سفر کا آغاز ہوتا ہے۔

یہ سفر بالتورو گلیشیئر پر سے ہوتا ہوا 8 سے 10 دن میں گوڈون آسٹن گلیشیئر کے کنارے پر واقع کے ٹو پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

کے ٹو کی چوٹی 8611 میٹر کی بلندی کے ساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جس کو ’سیویج ماؤنٹین‘ کے نام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

کے ٹو کے نام کی وجہ لفظ ’کے‘ قراقرم کے پہلے حرف سے لیا گیا ہے اور ٹو کا مطلب ہے قراقرم کی چوٹی نمبر 2۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سب سے پہلے 1856-57 میں اس خطے میں جارج منٹگمری کی سربراہی میں ایک مہم آئی تو انھوں نے ایک اونچی چوٹی کو کے۔ ون کا نام دیا جو کہ دراصل بعد میں مشربرم 7821 کے نام سے مشہور ہوئی۔

MOUNTAIN

SKARDU

Tabool ads will show in this div