لاہورپرکشش ترین مقامات میں سےایک ہے،نیویارک ٹائمز بھی معترف

ثقافت اور مہمان نوازی بھی بےمثال ہے،امریکی اخبار
Lahore view [video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/LAHORE-BUEATY-PKG-14-01.mp4"][/video]

امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے پاکستان کے شہر لاہور کو دنیا کے پرکشش ترین مقامات میں سے ایک قرار دے دیا۔

نیو یارک ٹائمز نے اعتراف کیا کہ لاہور اپنی ثقافت، تاریخ اور مہمان نوازی کی وجہ سے دنیا کا بہترین شہر ہے ليکن اس خوبصورت شہر کو اب نظر لگنا شروع ہوگئی ہے۔

امریکی جریدے نے لکھا ہے کہ باغوں کا شہر لاہور دنیا کے 52 مقامات میں سے ایک ہے جہاں ضرور جانا چاہیے۔

لاہور کے شاہی قلعے سے آج بھی جاہ وجلال جھلکتا ہے جس کی وہ صدیوں تک علامت رہا ہے۔ مغلیہ دور حکومت کے دوران دشمن کے حملوں سے بچاؤ کے لیے فصیل تعمیر کی گئی جس میں 12 دروازے بنائے گئے جن میں سے کچھ تو وقت کی رفتار کا ساتھ نہ دے پائے لیکن بیشتر ابھی بھی شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے ہیں۔

Delhi Gate lhr

مغلوں کی 21 یادگاروں میں شمار ہونے والا شیش محل شاہ جہاں نے اپنی بیگم کی محبت میں تعمیر کروایا۔ ممتاز بیگم کی خواہش پہ شیش محل کی چھت اور درو دیوار پر لگائے گئے آئینے ستاروں کا جھرمٹ محسوس ہوتے ہیں۔ 1632 ميں ممتاز بيگم کی وفات پر شيش محل کے صحن ميں کالے دل بھی بنوائے گئے۔

قلعے میں موجود دیوان خاص بادشاہ کا شاہی دربار تھا جہاں وہ اپنے وزیروں مشیروں اور راجاوں مہاراجاوں سے ملاقات کیا کرتا تھا۔ اس کا فرش مخلتف رنگ کے پتھروں سے بنایا گیا ہے اور دیواروں پہ خوبصورت نقش نگاری کی گئی ہے۔

قلعہ میں موزیم بھی ہے جس میں دلیپ سنگھ کی بیٹی اور پنجاب کی آخری شہزادی بمبا کے نواردات بھی رکھے ہیں۔

Minar e Pakistan lhr

اسکے ساتھ ہی شاہی طرز پر لال پتھروں سے بنی پاکستان کی سب سے بڑی بادشاہی مسجد واقع ہے جہاں کئی عشروں سے صوم و صلوت کی صدائیں گونج رہیں ہیں۔

مغلیہ طرز تعمیر کا یہ شاہکار آج بھی سیاحوں کے لٰیے خاص کشش رکھتا ہے۔ اس کے 3گنبد سنگ مرمر سے بنائے گئے ہیں جبکہ مسجد کے ہال کی مرکزی ديوار پر کلمہ طيب لکھا ہے۔ صحن کے گرد بنے برآمدوں ميں اردگرد کے حسين نظارے ديکھنے کو ملتے ہيں۔

صرف لاہوری ہی نہيں بلکہ دوسرے شہروں اور بيرون ملک سے آنے والے لوگ بھی اس شاہکار کی تعریف کیے بنا نہیں رہتے۔ مسجد میں بیک وقت  60 ہزار لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔