پنجاب بھر میں سہولت بازار ختم کرنے کا فیصلہ

اگلے ماہ 8 فروری تک سہولت بازار ختم کردیئے جائینگے
Jan 11, 2021
سہولت بازار کا ایک منظر
سہولت بازار کا ایک منظر
[caption id="attachment_2154864" align="alignright" width="900"] سہولت بازار کا ایک منظر[/caption]

پاکستان کے صوبے پنجاب میں سہولت بازار کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے ماڈل بازار کی سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے لاہور سميت پنجاب بھر ميں 8 فروری سے سہولت بازار ختم کردیئے جائيں گے، تاہم سہولت بازار ختم کرنے کا سلسلہ مرحلہ وار ہوگا۔

سہولت بازار ختم کرنے کیلئے پہلے مرحلے میں 11 جنوری سے صرف 5، 5 سہولت بازار ہی اضلاع میں لگائے جائیں گے، جب کہ اس کے متبادل ماڈل بازار 24 جنوری سے عوام کو سہولت فراہم کرسکیں گے، تاہم سہولت بازار کے مقابلے میں ان کی تعداد کم اور نرخ میں بھی فرق کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کے مطابق 25 جنوری سے لاہور ميں 4 اور ديگر اضلاع ميں 2 ،2 بازار رہيں گے، جس کے بعد اگلے ماہ 8 فروری تک تمام سہولت بازار ختم کر ديے جائيں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سہولت بازار کی جگہ پنجاب بھر میں 32 ، جب کہ لاہور میں 10 ماڈل بازار قائم کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب بھر میں 171 ، جب کہ صرف لاہور میں 31 سہولت بازار قائم تھے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سہولت بازار میں عوام کیلئے سستی چینی دستیاب تھی، جہاں سے دیگر ضروری اشیا حکومت کے مقرر کردہ ریٹس پر خرید سکتے تھے۔

ان سہولت بازاروں میں حکومت کے مقرر کردہ ریٹ لسٹ بھی اسٹالز کیساتھ آویزاں کی گئی تھیں، تاکہ غریب  عوام سے زیادہ نرخ نہ وصول کیے جا سکیں۔ ڈی سی لاہور کی جانب سے سہولت بازاروں میں ریٹ لسٹ آویزاں نہ ہونے پر مارکیٹ کمیٹی کے اسٹاف کو جیل بھیجنے کی وارننگ بھی دی گئی تھی۔

ان سہولت بازاروں میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلہ 860 کی بجائے 840 روپے میں دستیاب تھا، جب کہ چینی فی کلو 85 روپے فروخت کی جاتی ہے۔

قبل ازیں گزشتہ سال اکتوبر میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی جانب سے پنجاب بھر میں 350 سہولت بازار قائم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

PUNJAB

Tabool ads will show in this div