تنقیدپرجواب دےکرتوانائی ضائع نہیں کرناچاہتا،مصباح

جو کام ملا ہو، اس پر فوکس رہنا چاہئے
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Misbah-ul-Haq-Pc-PC-IN.mp4"][/video]

ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں شکست کا پوری ٹیم سمیت منجمنٹ کو بھی افسوس ہے اور یہ کسی صورت خوشی کی بات نہیں،کھلاڑیوں نے 100 فیصد کوشش کی،تاہم نتائج نہ مل سکے۔

لاہور میں پیر کو پریس کانفرنس کرتےہوئے مصباح الحق نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی موجودہ ٹیم ہوم گراؤنڈ پر بہت مشکل اور اچھی ٹیم ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے سامنے پاکستان نے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی ،اس لیے نتائج ٹھیک نہیں آئے۔

مصباح الحق نے کہا کہ کرکٹ کو ایک ڈیڑھ سال پہلے اور اس وقت بہت فرق آگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پریکٹس اور نیوزی لینڈ میں کیمپ کو آئسولیشن میں گزارناپڑا،کھلاڑیوں کو 19 دن گراؤنڈ میں پریکٹس کی اجازت نہیں تھی۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ اس صورتحال میں حالات بہتر بنانے کےلیے نئے سرےسے کوشش کرنا ہوگی،جومنصوبہ بندی بیٹنگ اور بولنگ کےلیے کرنا تھی وہ نہ ہوسکی۔

مصباح الحق نے یہ بھی کہا کہ بابر اعظم کا ٹیم میں نہ ہونا اور ان فٹ ہوجانا بہت بڑا نقصان تھا تاہم مخالف ٹیم ہم سے کھیل کے تمام شعبوں میں بہتر تھی۔

مصباح الحق نے کہا کہ پاکستان سے بہتر کرکٹ کھیل کر نیوزی لینڈ نے جیت حاصل کی۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ فیلڈنگ کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔مصباح الحق نے کہا کہ مکی آرتھر نے پاکستان کے لیے اچھا کام کیا،اس کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں،کرکٹ کمیٹی کے فیصلے میرے کنٹرول نہیں ہیں۔ مصباح الحق نے دہرایا کہ نتائج پر افسوس ہے،جو چاہتے تھے ویسے نتائج نہیں ملے۔

محمد عامر سے متعلق انھوں نے کہا کہ ان کی اپنی ایک رائے ہے،تمام کھلاڑیوں کو عزت دی ہے،محمد عامرکو بطور کپتان ویلکم کیا اور اس کو ٹیم میں جگہ دی۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ محمد عامر کو ہمیشہ سپورٹ کیا۔انھوں نے یہ بتایا کہ محمد عامر کو زمبابوے کے خلاف اس لیے نہیں کھلایا کیوں کہ نوجوان بالرز کو چانس دینا چاہتےتھے،ٹی 20 ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی نہیں تھی،انھوں نے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ بھی اچھی کارکردگی نہیں دی۔ مصباح نے بتایا کہ جب نیوزی لینڈ کےخلاف ٹیم کا اعلان ہوا تو محمد عامر کی کارکردگی اچھی نہیں تھی۔ انھوں نے یہ بھی وضاحت دی کہ وقار یونس نے محمد عامر کی مخالفت نہیں کی تھی،ان کو ٹیم میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ تمام کوچز کا تھا، محمد عامر کے بیانات کرکٹ سے ہٹ کر ہیں،انھیں ڈومیسٹک میں جا کر اچھا پرفارم کرنا چاہئے تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ محمد عامر کی موجودہ فارم کی بھی حیثیت ہے،پہلے کی کارکردگی پر ابھی کوئی بات نہیں ہورہی۔ انھوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ عامر کی ابھی اچھی کارکردگی ہوئی تو خوش آئند ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ بطور سینیئر کھلاڑی ٹیم کےلیے پرفارمنس دینا ہوگی،محمد عامر سے متعلق دل میں کوئی بات نہیں ہے،جو پاکستان کےلیے بہتر ہے،وہ کریں گے۔

فواد عالم سے متعلق انھوں نے کہا کہ کپتانی کے دور میں اس وقت چھ سات سال ان کی جگہ نہیں تھی،فواد عالم نے موقع ملنے پر پرفارمنس دی،خوشی ہے کہ وہ فارم میں ہے،امید ہے کہ وہ مزید اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

اپنی کارکردگی پر مصباح الحق نے کہا کہ پاکستان ٹیم کی پرفارمنس کا باریک بینی سے تجزیہ کرنا اور جائزہ لیا ضروری ہے،جہاں منجمنٹ کی غلطیاں ہیں، ان کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسا پھر نہ ہوسکے،کسی بھی چیز کو بہتر بنانے کےلیے زیادہ تبدیلیاں نہیں ہونی چاہئے۔

کرکٹ کمیٹی سے متعلق انھوں نے کہا کہ وہاں رپورٹ جمع کروائی جاتی ہے اور وہاں غلطیوں کی نشان دہی کی جاتی ہے۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ کوچ کے عہدوں پر پریشر ہوتا ہے اور جو نتائج چاہ رہے تھے ویسے نہیں آئے۔

مصباح الحق نے کہا کہ ٹی 20 سیریز میں پاکستان نے سخت مقابلہ کیا،مجموعی طور پر کنڈیشن کو سمجھنےمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ہیڈ کوچ نے مزید کہا کہ فواد عالم ،فہیم اشرف،محمد رضوان کی کارکردگی بہترین رہی،اظہر علی کی بیٹنگ بھی اچھی رہی،کافی مثبت چیزیں بھی رہیں۔

مصباح الحق نے مستقبل کے بارے میں کسی پیش گوئی سے گریز کیا اور کہا کہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔مخالف بیانات پر انھوں نے کہا کہ ہر انسان اپنے ظرف سے متعلق بیان دیا،جو بول رہاہے،وہ بولتا رہے، فوکس یہ ہے کہ پاکستان ٹیم کی بہتری کےلیے پوری کوشش کررہا ہوں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف ٹیموں کو کہاں سے کہاں پہنچایا اور اچھی کارکردگی دی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ تنقید ہمیشہ ہوتی ہے،اس پر جواب نہیں دینا چاہئے،جو کام ملا ہو، اس پر فوکس رہنا چاہئے۔

Tabool ads will show in this div