سانحہ مچھ : شہدا کی تدفین آج کی جائے گی

تدفین ہزارہ قبرستان میں ہوگی

بلوچستان کی تحصیل مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں شہید کیے گئے کان کنوں کی تدفین آج بروز ہفتہ 9 جنوری کو کی جائے گی۔

شہدا کمیٹی اور ہزارہ برادری کے علما کے مطابق شہدا کی تدفین ہزارہ قبرستان کوئٹہ میں آج بروز ہفتہ 9 جنوری صبح 10 بجے کے بعد کی جائے گی۔ تدفین کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ گزشتہ رات 8 جنوری کو حکومت اور مظاہرین میں تحریری معاہدے کے بعد مذاکرات کی کامیابی کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد لواحقین اپنے پیاروں کی میتیں لے کر روانہ ہوگئے تھے۔

کامیاب مذاکرات کے بعد ایک گھر کے 5 شہداء کے ورثا نے مذاکرات کی کامیابی پر اطمینان اور اظہار یکجہتی کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ شہدا ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ آج ہفتے کے روز عزت کے ساتھ اپنے شہدا کی تدفین کریں گے۔

تحریری معاہدے کا عکس

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وفاقی وزیرعلی زیدی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری نے دھرنے کے شرکا سے ایک بار پھر مذاکرات کیے جس کے بعد لواحقین نے 6 روز کے دھرنے کے بعد میتوں کی تدفین پر رضا مندی ظاہر کردی۔

شہدا کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا کہنا تھا کہ جیسے ہی شہدا کی تدفین ہوتی ہے وزیراعظم عمران خان کوئٹہ آئیں گے اور ان کے ہمراہ آرمی چیف بھی کوئٹہ آئیں گے اور لواحقین سے تعزیت کریں گے۔

واضح رہے کہ سانحہ مچھ کے بعد شہدا کے ورثا نے کوئٹہ میں میتوں کے ہمراہ کراچی اور لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں دھرنے دیے جب کہ کراچی میں 30 سے زائد مقامات پر دھرنے دیے گئے تھے۔

مذاکرات کی کامیابی کے اعلان کے بعد شہدا ایکشن کمیٹی کے رہنما آغا رضا نے کہا کہ ہم نے شہدا کے لواحقین کے لیے دھرنا دیا اور ان کے مطمئن ہونے پر ہی دھرنا ختم کر رہے ہیں۔ اپنے شہدا کی تدفین پورے تقدس کے ساتھ کریں گے۔ آغا رضا نے ملک بھر میں دھرنا دینے والوں سے اپیل کی کہ ہمارے تمام مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہیں جس کے بعد تمام دھرنے پر امن طور پر ختم کردیئے گئے۔

کامیاب مذاکرات کے بعد ایک گھر کے 5 شہداء کے ورثا نے مذاکرات کی کامیابی پر اطمینان اور اظہار یکجہتی کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیرعلی زیدی نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے شرعی وارث کو سرکاری ملازمت اور شہداء کے زیر تعلیم کسی بھی بچے کو اسکالرشپ دیگی۔ واقعہ میں غفلت کے ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی ہوچکی ہے، جب کہ سانحہ مچھ کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی سربراہی میں 2ارکان اسمبلی، 2سنیئر سرکاری افسران، ایک ڈی آئی جی پولیس اور 2ممبران شہداء کمیتی پر مشتمل اعلیٰ سطح کمیشن بھی تشکیل دیا گیا ہے جو ہر ماہ تحقیقات میں پیش رفت کا جائزہ لے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صوبے میں سیکیورٹی اداروں کے ذریعے سیکیورٹی صورت حال پر از سر نو جائزہ لیکر حکمت عملی بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نادرا اور پاسپورٹ آفس کے مسائل کے حوالے سے کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں شہداء کمیٹی کے 2ارکان شامل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بیان پر عوام نے تنقید کی یہ بیان شہداء کے لواحقین نہیں بلکہ ان کے لئے تھا جو مذہب کے نام پر سیاست اور ملک میں گھوم رہے ہیں اور ملک کو غلط سمت میں لیکر جارہے ہیں اور یہاں بھی آئے۔ یہ بیان ان کے لئے تھا۔

ویڈیو: مچھ سانحہ: خواتین کے “عمران خان کوئٹہ آؤ” کے نعرے

واضح رہے کہ رواں ماہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں دہشت گردوں نے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کو آنکھوں پر پٹیاں اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں اس وقت ذبح کیا ، جب کان کن اعلیٰ الصبح فیلڈ پر جانے کیلئے موجود تھے۔

مچھ : حملہ آوروں نے 11 کان کنوں کو قتل کردیا

حملے کی ذمہ داری عالمی کالعدم دہشت گرد تنظیم داعش کی جانب سے ان کی ویب سائٹ عماق پر قبول کی گئی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی ہزارہ برادری اور دیگر مسلک سے وابستہ افراد پر حملے اور قتل کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کی گئی ہیں۔

HAZARA

Tabool ads will show in this div