اسامہ ستّی قتل کیس: اہلکاروں کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

کال چلانے والے اہلکار کو شامل تفتیش کرنے کا حکم
فوٹو: اسلام آباد پولیس
فوٹو: اسلام آباد پولیس
Usama murder case فوٹو: اسلام آباد پولیس

اسلام آباد کی انسدا دہشتگردی عدالت نے اُسامہ ستّی قتل کیس میں گرفتار 5 پولیس اہلکاروں کا مزید 7 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

عدالت نے وائرلیس پر کال چلانے والے اہلکار کو بھی شامل تفتیش کرنے کا حکم دے دیا۔

بدھ 6 جنوری کو اُسامہ ستّی قتل کیس کی انسدا دہشتگردی عدالت میں  سماعت ہوئی جہاں تمام گرفتار اہلکاروں کو جج راجہ جواد عباس حسن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

پولیس کی جانب سے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ جج نے استفسار کیا کہ اب تک کی تفتیش میں کیا کچھ برآمد کیا؟

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ پستول اور اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کو کال موصول ہوئی تھی کہ ڈکیتی ہوئی ہے جس کے بعد گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی جس کے نہ رکنے پر پیچھے سے فائرنگ کی گئی۔

جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں بچے کو تمام گولیاں پیچھے سے لگیں؟ پولیس تفتیشی نے بیان دیا کہ جی تمام گولیاں پیچھے سے لگی ہیں۔ مقتول کی فیملی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گاڑی پر سامنے سے گولیاں لگنے کے نشانات موجود ہیں، پولیس اہلکاروں نے کیا مرنا نہیں ہے یہ شواہد میں ٹمپرنگ کر رہے ہیں۔

جج نے کہا کہ مجھے تصویریں دکھائیں گاڑی کی کہاں پیچھے سے گولی لگی ہیں۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ میرے پاس موجود نہیں ہے۔

میرے بیٹے کوگاڑی سے نکال کرقتل کیاگیا، والد اسامہ ستی

جج نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ تو پھر متاثرہ فیملی ٹھیک کہہ رہی ہے کہ آپ لوگ آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ پیچھے سے بچے کو گولی لگی تو سیٹ سے گزر کر ہی لگی ہوگی نا؟ آپ نے صرف وہ شواہد اکٹھے کیے جو آپ کو سپورٹ کرتے ہیں؟ کیا وہ سارے شواہد چھوڑ رہے ہیں جو آپ کے حق میں نہیں؟

جج نے گرفتار اہلکاروں کو روسٹرم پر بلایا۔ جج نے استفسار کیا کہ آپ لوگ بتائیں کیوں گولی ماری اور کس نے ماری؟ کیا صرف ایک کال سن کر آپ نے گولیاں چلا دیں؟

گرفتار اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ اے ایس آئی شمس کالونی سلیم کی ہمیں کال موصول ہوئی تھی گھر میں چار ڈاکو گھسے ہیں۔ ہمیں فون پر اطلاع ملی تھی کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی نکلی ہے اور ہمیں یہ سفید گاڑی نظر آئی اس کو روکنے کی کوشش کی جس کے بعد سرینگر ہائی وے سے اس کا پیچھا کیا اور لائٹیں ماریں لیکن یہ نہیں رُکا۔

جج: آپ کے پاس کونسی گاڑی تھی اور بچے کے پاس کونسی تھی؟ گرفتار اہلکار: ہمارے پاس پک اپ تھی اس کے پاس کار تھی۔ جج نے سوال اٹھایا کہ کیا پک اپ آگے لگا کر گاڑی نہیں روکی جا سکتی تھی؟ کیا وہ بچہ آپ پر میزائل فائر کر رہا تھا کہ سیدھی گولیاں مار دیں؟ کتنا بڑا ڈاکو تھا وہ جسے ایسے مار دیا گیا؟ بتاؤ کتنے پرچے تھے؟ آپ کو 4 ڈاکؤوں کی اطلاع ملی آپ نے ایک بندے والی گاڑی پر گولیاں چلا دیں؟

جج: اگلے ناکے پر کال سے اطلاع دے سکتے تھے آپ نے گولیاں کیوں ماریں؟ میں بھی گاڑی چلاتا ہوں کیا کبھی اشارہ نہ دیکھ پایا تو گولی مار دیں گے؟ غلط کی ہے اوپر سے بحث بھی کر رہے ہیں شرم نہیں آتی؟

اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب (2 جنوری کو) سیکٹر جی 10 میں ایک کار پر فائرنگ کی، جس میں سوار نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ مشکوک گاڑی اشارے کے باوجود نہ رکی تو ٹائروں پر فائر کئے گئے تاہم اس دوران گولیاں نوجوان کو لگ گئیں۔

USAMA SATTI

Tabool ads will show in this div