مچھ میں قتل احمدشاہ انٹر کا اسٹوڈنٹ تھا، والدہ

بہن کا وزیراعظم سے کوئٹہ آنے کا مطالبہ
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Nadeem-Malim-Urdu-CLip.mp4"][/video]

مچھ میں کوئلے کی کان میں بے دردی سے قتل کئے جانے والے 10 محنت کشوں میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شامل ہیں۔ ان میں ایک 18 سالہ احمد شاہ سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا جو چھٹیوں کے دوران محنت مزدوری کرنے گیا تھا۔

سماء ٹی وی کے اینکر پرسن ندیم ملک نے اپنے ٹاک شو میں احمد شاہ کی والدہ آمنہ یعقوب اور بہن معصومہ یعقوب کو مدعو کیا۔

آمنہ بی بی نے بتایا کہ کرونا وائرس کے باعث تعلیمی ادارے بند ہوئے تو بیٹے نے کہا کہ وہ چھٹیوں کے دوران دوچار پیسے کمانے مزدوری کرنے جارہا ہے تاکہ وہ آگے تعلیم جاری رکھ سکے مگر دہشت گردوں نے اس کی گردن کاٹ دی۔

آمنہ یعقوب کا ایک بیٹا، دو نواسے اور ایک بھائی بھی اس سانحہ کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک بار کوئٹہ آکر ان جنازوں کو جاکر دیکھیں کہ کس بے دردی سے ان کو جانوروں کی طرح ذبح کردیا گیا ہے۔

احمد شاہ کی ہمشیرہ معصومہ نے کہا کہ 20 سال کے دوران کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف جتنی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ ہوئی، آج تک ایک بھی قاتل یا ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ حکومتی نمائندے آکر باتیں کرکے چلے جاتے ہیں۔

Hazara Genocide