مقتول اسامہ نے تحریک انصاف کیلئے مہم چلائی، والدہ

وزیراعظم سے انصاف کا مطالبہ
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/OSAMA-MOTHER-APEAL-SOT-04-01.mp4"][/video]

اسلام آباد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بننے والے نوجوان اسامہ کی والدہ نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا تحریک انصاف کا سرگرم کارکن تھا۔ وہ انتخابات کے دنوں میں دو دو دن گھر سے باہر رہ کر پی ٹی آئی کیلئے مہم چلاتا رہا۔

اسلام آباد کے 22 سالہ نوجوان اسامہ کو اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے کشمیر ہائی وے پر دوران سفر گاڑی پر فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔ واقعہ کی تحقیقات کیلئے متعدد کمیٹیاں تشکیل دی جاچکی ہیں۔

اسلام آباد پولیس کا موقف ہے کہ اہلکار ڈکیتی کی اطلاع ملنے پر مشکوک گاڑی کا تعاقب کر رہے تھے۔ نہ رکنے پر گولیاں چلائیں جو نوجوان کو لگیں۔

سماء ٹی وی کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے اسامہ کی والدہ نے کہا کہ ان کا بیٹا اپنی کار میں پک اینڈ ڈراپ کا کام کرتا تھا۔ اگر وہ پولیس کے اشارے پر نہ بھی رکا تو اس کی ٹانگ میں گولی ماردیتے، میں اس کا علاج کرواتی۔ اس کے اوپر ایف آئی آر کاٹ کر تھانے میں بند کردیتے، میں خود وہاں چلی جاتی مگر سینے پر گولیاں کس قانون کے تحت ماری گئیں۔

مقتول کی والدہ نے بتایا کہ ’اسامہ تحریک انصاف کا بہت سرگرم رکن تھا۔ تحریک انصاف کی مہم میں وہ سب سے آگے ہوتا تھا۔ وہ انتخابی مہم کے دوران دو دو دن گھر نہیں آتا تھا۔ اس نے مجھے مجبور کیا کہ پی ٹی آئی کو سپورٹ کریں اور ووٹ دیں۔ میں نے اس کے کہنے پر پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اور پی ٹی آئی نے میرا وہی اسامہ مجھ سے چھین لیا۔‘

انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے ہی انصاف کی امید ہے۔ اسامہ کے قاتلوں کو پھانسی دی جائے۔

islamabad police

Tabool ads will show in this div