مچھ میں کانکنوں کے قتل کا مقدمہ درج

تاحال مقتولین کی تدفین نہیں کی گئی، احتجاج جاری

بلوچستان کے علاقے مچھ میں اتوار کو ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے 10 کانکنوں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

بلوچستان کے علاقے مچھ میں اتوار کو داعش سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 10 کان کنوں کو گلے کاٹ کر قتل کردیا تھا۔

واقعے کے بعد ہزارہ برادری نے لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کیا تاہم انتظامیہ اور علاقہ معززین کے ساتھ مذاکرات کے بعد پیر کی صبح مقتولین کی نماز جنازہ اور تدفین کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ہزارہ برادری کی جانب سے کئی گھنٹوں بعد بھی مقتولین کی میتوں کے ساتھ احتجاج جاری ہے۔

سی ٹی ڈی پولیس تھانہ نصیرآباد نے ایس ایچ او مچھ پیر بخش بگٹی کی مدعیت میں 10 افراد کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا، نامعلوم افراد کیخلاف درج مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مزید جانیے: مچھ میں 11 کان کنوں کو قتل کردیا گیا

مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ خودکار ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں نے 10 کان کنوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا۔ پولیس کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش سی ٹی ڈی پولیس کرے گی۔

ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی کئی بار کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں فائرنگ اور بم حملوں میں سیکڑوں افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔

HAZARA MURDER

Tabool ads will show in this div