کان کنوں کاقتل: دھرنا جاری رہیگا، تدفین 4جنوری کو ہوگی

مچھ میں 11مزدوروں کو قتل کیا گیا
فوٹو: آن لائن
فوٹو: آن لائن
QTA coal mine family protest فوٹو: آن لائن

بلوچستان کے علاقے مچھ میں قتل کیے گئے 11 کان کنوں کی تدفین پیر 4 جنوری کو کی جائے گی جبکہ مغربی بائی پاس پر دھرنا جاری رہے گا۔

ہزارہ اقوام کے سیاسی و مذہبی، سماجی رہنماﺅں اور معتبرین کا اجلاس کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاﺅن میں واقع امام بارگاہ ولی عصر میں بزرگ رہنماء ڈاکٹر نوروز علی گلزاری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مچھ میں قتل کیے جانے والے کان کنوں کو پیر کے دوپہر ایک بجے ہزارہ ٹاؤن قبرستان میں سپردخاک کیا جائے گا۔

مجلس وحدت المسلمین نے مغربی بائی پاس پر دھرنے کو جاری رکھنے، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں آواز بلند کرنے جبکہ ہزارہ سیاسی کارکنان نام کی تنظیم نے طاہر خان ہزارہ کی قیادت میں پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔

مچھ : حملہ آوروں نے 11 کان کنوں کو قتل کردیا

جرگے کے شرکاء نے کہا کہ واقعہ کے خلاف تمام شرکاء اپنی پارٹی کی سطح پر لائحہ عمل طے کریں گے۔

اجلاس میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر عبدالخالق ہزارہ، ایم پی اے قادر علی نائل، جنرل سیکرٹری احمد علی کوہزاد، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید داﺅد آغا، ہزارہ سیاسی کارکنان کے طاہر خان ہزارہ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سید ناصر شاہ، مصطفی تیموری، مجلس وحدت المسلمین کے لیاقت آغا، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بلوچستان کے انجینئر ہادی عسکری سمیت دیگر نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ اتوار 3 جنوری کو بلوچستان کے علاقے مچھ میں دہشت گروں نے فائرنگ کر کے 11 کان کنوں کو قتل کردیا تھا۔

لیویز کے مطابق کے بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل مچھ میں ہفتہ اتوار کی درمیانی شب نامعلوم حملہ آوروں نے اغوا کیے گئے 11 کان کنوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ فائرنگ سے 3 کان کن زخمی بھی ہوئے۔ مقتول کان کنوں کی آنکھوں پر پٹیاں اور ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔

COAL MINE

Tabool ads will show in this div