اسلام آباد میں نوجوان کے قتل کی تحقیقات کیلئے مشترکہ ٹیم تشکیل

ٹیم میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے اہلکار بھی شامل
اسلام آباد: متاثرہ گاڑی کی جھلک

اسلام آباد میں سی ٹی ڈی اہل کاروں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے اسامہ ستی کے قتل کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

چيف کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی نے اسامہ قتل کيس کی تحقيقات کیلئے بنائی گئی ٹیم میں کیلئے ایس پی صدر سرفراز ورک کو سربراہ مقرر کیا ہے۔ ٹیم میں آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی کا بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا۔ ڈی ایس پی رمنا، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن، ایس ایچ او رمنا بھی اس ٹیم میں شامل ہونگے۔

قبل ازیں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسامہ ستی کو 6 گولیاں لگیں۔ جسم کے 11 حصوں پر زخم آئے۔ پھیپھڑوں پر گولی لگنے اور زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے نوجوان کی موت واقع ہوئی۔ پوسٹمارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ ستی کے سر، کمر، پاؤں اور بازوؤں پر زخم پائے گئے۔

واضح رہے کہ قتل کی تحقیقات کیلئے چیف کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی نے جوڈیشل انکوائری کا حکم بھی دیا تھا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رانا محمد وقاص انور واقعہ کی انکوئری کریں گے۔ انکوائری رپورٹ 5 دن میں جمع کروائی جائے گی۔

اسلام آباد: پولیس کی فائرنگ سے نوجوان قتل

اسلام آباد پولیس کے اہل کاروں نے جمعہ یکم جنوری کی درمیانی شب سیکٹر جی 10 میں گاڑی پر فائرنگ کرتے ہوئے اسامہ ستی نامی نوجوان کو قتل کردیا تھا۔ پولیس اہلکاروں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ڈکیتی کی اطلاع ملنے پر گاڑی کا تعاقب کر رہے تھے۔ مقتول نے گاڑی نہیں روکی تو اس پر فائرنگ کردی۔

ISLAMABAD FIRING

USAMA SATTI

Tabool ads will show in this div